‘دبئی کی چکا چوند ختم ہو چکی ہے’، غیر ملکی رہائشی شہر چھوڑ کر کبھی واپس نہیں آنا چاہتے، ڈیلی میل کی رپورٹ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث دبئی میں مقیم غیر ملکی باشندوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ متعدد غیر ملکیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل میزائل اور ڈرونز حملوں کی وجہ سے وہ اپنی جان کو خطرہ محسوس کر رہے ہیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں نے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق، بعض افراد نے یہاں تک کہا ہے کہ وہ دبئی چھوڑ کر جا رہے ہیں اور دوبارہ واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

ایک وقت تھا جب دبئی کو ٹیکس سے تقریبا آزاد، پُرسکون اور محفوظ شہر سمجھا جاتا تھا جہاں دنیا بھر سے سیاح، سرمایہ کار اور سماجی شخصیات آ کر آباد ہوتی تھیں، مگر موجودہ جنگی صورتحال کے بعد شہر کی یہ مثبت تصویر متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دبئی میں تقریبا دو لاکھ چالیس ہزار برطانوی شہری بھی مقیم ہیں جن میں معروف فٹبالر ریو فرڈینینڈ اور ان کی اہلیہ کیٹ فرڈینینڈ، سماجی شخصیت لوئیسا زِسمن اور کاروباری شخصیت پیٹرا ایکلسٹون شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، ایران نے گزشتہ ہفتوں کے دوران خیلجی ممالک میں امریکی اثاثوں کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا اور متعدد میزائل اور ڈرونز فائر کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان حملوں میں زیادہ تر دبئی میں ہوئے جس کے باعث شہر میں کئی دھماکے سنے گئے۔ ایک حملے میں دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈہ کو بھی نقصان پہنچا اور دو ڈرونز مسافروں کے اسٹیشن کے قریب جا گرے جس سے چار افراد زخمی ہو گئے۔
حملوں کے بعد کئی بڑی فضائی کمپنیوں نے خطے کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر منسوخ کر دیں جبکہ ہزاروں سیاح اور رہائشی شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

حملوں کے دوران دبئی کے معروف سیاحتی مقامات بھی متاثر ہوئے۔ پام جمیرا کے علاقے میں واقع فیرمونٹ دی پام نامی ہوٹل کو ڈرون حملے میں نقصان پہنچا جبکہ شہر کی بعض بلند عمارتوں کو بھی نقصان کی اطلاعات ملی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض مغربی مالیاتی اداروں کے دفاتر بھی ممکنہ خطرات کے باعث خالی کرا دیے گئے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام زیادہ تر میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر رہا ہے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے رہائشی خوف کا شکار ہیں اور شہر چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔

حکام نے سوشل میڈیا پر جنگ سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے پر سخت پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق اگر کوئی شخص ایسی معلومات یا ویڈیوز نشر کرے جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلنے کا خدشہ ہو تو اسے جرمانہ اور قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے، اور اس حوالے سے کئی افراد کے خلاف کارروائی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ادھر بعض غیر ملکی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث کاروبار بری طرح متاثر ہو گیا ہے اور سیاحت تقریبا رک چکی ہے۔ ٹیکسی ڈرائیوروں اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کے مطابق آمدنی میں نمایاں کمی آ گئی ہے اور بہت سے لوگ دوسرے ممالک منتقل ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر جنگ طویل ہو گئی تو دبئی کی معیشت، جو بڑی حد تک غیر ملکی آبادی اور سیاحت پر انحصار کرتی ہے، اسے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں