قطر پر اسرائیلی حملے اور فلسطینی عوام پر مسلسل مظالم نے ایک بار پھر عرب اور مسلم دنیا کی اجتماعی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے، دوحہ میں ہونے والی موجودہ کانفرنس اور قراردادیں اپنی جگہ، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں، ایک طرف اسرائیلی جارحیت ہے، دوسری طرف اسی خطے میں امریکی فوجی اڈے اور مغربی توانائی انحصار ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض احتجاجی کانفرنس ہے یا قطر کے لیے عملی اقدامات کا لمحہ فکریہ ہے؟
قطر میں امریکی عسکری موجودگی ایک کھلی حقیقت ہے، دوحہ کے قریب العدید ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، یہی مرکز امریکی سنٹرل کمانڈ کی فضائی کارروائیوں کا ریڑھ کی ہڈی ہے، قطر کی سلامتی پالیسی اور واشنگٹن کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات اسے خطے میں ایک خاص مقام دیتے ہیں، مگر اسی انحصار نے قطر کی خودمختاری کو محدود کر رکھا ہے، ایسے میں اسرائیلی جارحیت پر قطر کا سخت عملی ردعمل دینا آسان نہیں، قطر پر حملے کے بعد بھی اصل تضاد یہی ہے کہ ایک طرف وہ مظلوم فلسطینیوں اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے بیانات دیتا ہے اور دوسری طرف سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے۔
قطر دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس کے برآمد کنندگان میں شامل ہے، یورپ اور ایشیا کی بڑی معیشتیں قطر سے توانائی خریدتی ہیں، یہ تجارتی رشتے قطر کو عالمی سطح پر اثرورسوخ دیتے ہیں مگر اس کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، توانائی کی سفارتکاری کو بطور سیاسی دباؤ استعمال کرنے کی صلاحیت تو موجود ہے مگر یہ معیشت کے لیے خود خطرہ بن سکتی ہے، قطر اگر چاہے تو وہ ان توانائی سپلائی چینز کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یورپ اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں شدید بگاڑ ہے، یہی وہ الجھاؤ ہے جو قطر کے فیصلوں کو کمزور بناتا ہے۔
دوحہ میں ہونے والی موجودہ کانفرنس اور قراردادیں علامتی اہمیت ضرور رکھتی ہیں، اسرائیلی حملے کی مذمت، فلسطینی عوام سے یکجہتی اور قطر کے حق خودمختاری کا دفاع ان قراردادوں میں شامل ہوگا، لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ جب تک عرب اور مسلم ممالک اپنے معاشی اور دفاعی کارڈ استعمال نہیں کرتے، ایسی کانفرنسیں صرف بیانات اور تصویریں بن کر رہ جاتی ہیں، قطر کو یہ سمجھنا ہوگا کہ احتجاج اور بیانات سے مظلوم فلسطینیوں کے حالات نہیں بدلیں گے، اس کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
قطر اگر واقعی احتجاج سے آگے بڑھنا چاہتا ہے تو چند حقیقی اقدامات کر سکتا ہے، امریکی فوجی اڈے کی شرائط پر نظر ثانی یا کم از کم اس کے استعمال پر واضح پابندیاں عائد کرنا، توانائی کے بڑے خریداروں کے ساتھ سیاسی مشروطیت طے کرنا تاکہ انسانی حقوق اور فلسطینی مسئلے پر واضح پوزیشن ہو، عرب اور مسلم اتحادی ممالک کے ساتھ مشترکہ معاشی اور سفارتی اقدامات کرنا تاکہ اسرائیلی جارحیت کی قیمت بڑھائی جا سکے، فلسطینی عوام کے لیے براہ راست مالی امداد اور عالمی فورمز میں قانونی چارہ جوئی کرنا۔
یہ سب اقدامات آسان نہیں ہیں، ان کے لیے سیاسی جرأت، اقتصادی قربانی اور سفارتی مہارت درکار ہے، لیکن یہی اقدامات قطر کی خودمختاری اور مسلم دنیا کی ساکھ کو مضبوط کر سکتے ہیں، بصورت دیگر یہ کانفرنسیں اور قراردادیں صرف وقتی خبر اور رسمی تصویریں رہ جائیں گی، قطر کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ واقعی اپنے عوام اور مسلم امہ کے جذبات کے مطابق فیصلہ سازی کرے تو اس کے پاس اثرورسوخ کے وہ تمام ذرائع موجود ہیں جو اسرائیلی جارحیت کو قیمت ادا کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں، تاہم یہ اس وقت ممکن ہوگا جب دوحہ کے بیانات الفاظ سے نکل کر عملی پالیسی میں ڈھلیں۔
قطر پر اسرائیلی حملے، فلسطینی مظالم اور مسلم ممالک کی خاموشی پر احتجاج جائز اور اخلاقی ہے، مگر اصولوں کی صداقت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب مظاہرے کے ساتھ عملی اقدامات بھی ہوں، اگر ایک ملک اپنے مفادات سالمیت، اپنی خودمختاری اور اپنے اخلاقی دعوے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے صرف کانفرنسیں اور قراردادیں نہیں بلکہ اپنے مفاہمتی معاہدوں کو چیلنج کرنا ہوگا، فوجی اتحادی مراکز کی شراکت داری پر سوال اٹھانا ہوگا، اقتصادی ذرائع کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ہوگا اور متحدہ مسلم اور عرب ممالک کے ہم قدم رہنما کردار کو عملی طور پر زندہ کرنا ہوگا، اگر یہ نہ ہو تو احتجاج اور رونا دھونا عارضی تصویر ہو سکتے ہیں، مؤثر تبدیلی کی بنیاد نہیں۔