دوحہ معاہدہ پاکستان کی عسکری برتری، طالبان کی پسپائی، بھارت کی رسوائی

دوحہ معاہدہ پاکستان کی عسکری برتری، فیصلہ کن فتح، طالبان کی پسپائی اور بھارت کی رسوائی، پاکستان نے دوحہ مذاکرات میں نہ صرف سفارتی مہارت اور عملی بصیرت کا مظاہرہ کیا بلکہ میدانِ عمل میں ایسی عسکری صلاحیت دکھائی جس نے پورے خطے کا توازن بدل کر رکھ دیا، سرحدی علاقوں میں پاک افواج نے اپنی قوتِ فیصلہ، نظم و ضبط اور مربوط حکمتِ عملی سے دشمن کے ہر محاذ کو ناکام بنایا، intelligence operations اور precise coordination کے باعث دشمن کی communication lines اور سپلائی چین تباہ ہوئیں.

پاک افواج نے ground domination حاصل کر کے سرحدی امن کو محفوظ بنایا، دوحہ معاہدہ محض ایک کاغذی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسا تاریخی موڑ ہے جس نے امن اور طاقت کے باہمی تعلق کو نئی جہت دی، پاکستان نے اپنے دفاعی اداروں کی professional excellence، عزم اور foresight سے دنیا کو یہ باور کرایا کہ امن صرف نعرے سے نہیں بلکہ مضبوط عسکری قوت اور دانشمند قیادت سے قائم ہوتا ہے.

طالبان کی طاقت گھٹتی گئی، ان کے ٹھکانے بے نقاب ہوئے، اور افغان عوام نے پہلی بار ایک ایسے معاہدے کی فضا میں سانس لیا جس کے پیچھے پاکستان کا کردار فیصلہ کن تھا، بھارت جو برسوں افغانستان میں اپنی خفیہ موجودگی کے ذریعے بدامنی پھیلانے میں مصروف تھا، اب سفارتی سطح پر تنہائی اور شرمندگی کا شکار ہے، دوحہ معاہدے نے اس کے regional ambitions کو خاک میں ملا دیا.

پاکستان نے واضح کر دیا کہ جو ریاست اپنی سرحدوں کے تحفظ، قومی سلامتی اور امن کے درمیان توازن برقرار رکھتی ہے وہی پائیدار طاقت بنتی ہے، یہی پاکستان کی کامیابی ہے کہ اس نے diplomacy کو strategy میں، strategy کو عمل میں، اور عمل کو فتح میں بدل دیا.

دنیا کے لیے یہ پیغام ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے مگر اپنی عسکری طاقت، قومی وقار اور سرحدی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، دوحہ معاہدہ دراصل اس عزم کی علامت ہے کہ اگر امن کی خواہش ہے تو اسے طاقت، تدبر اور عزم کے ساتھ نبھانا ہوگا، اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے پاکستان کو خطے کا فیصلہ کن مرکز بنا دیا ہے

Author

اپنا تبصرہ لکھیں