امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں ‘جوہری پالیسی’ پر بحث تیز ہو گئی ہے، سی این این کی رپورٹ

ایران کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا تہران اب جوہری ہتھیار بنانے کی طرف بڑھ سکتا ہے یا نہیں۔ دو دہائیوں سے ایران یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کو حرام قرار دیتے ہوئے فتویٰ بھی جاری کیا تھا۔

امریکی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، حالیہ جنگ اور قیادت میں تبدیلی کے بعد صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کے اندر اس بات پر بحث تیز ہو گئی ہے کہ آیا اس پالیسی کو برقرار رکھا جائے یا تبدیل کر دیا جائے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے ماضی میں “اسٹریٹیجک پیشنس” کی پالیسی اپناتے ہوئے یورینیم افزودگی جاری رکھی لیکن ہتھیار بنانے کی حد عبور نہیں کی۔ اب اطلاعات کے مطابق، ایران کے پاس بڑی مقدار میں انتہائی افزودہ یورینیم موجود ہے، جو اگر پالیسی تبدیل ہو جائے تو چند جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی پالیسی ابھی واضح نہیں، اور خود ایرانی حکام بھی اس بارے میں محتاط بیانات دے رہے ہیں۔ دوسری جانب پاسداران انقلاب اور سخت گیر حلقوں کی جانب سے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ ابتدا میں ایک سادہ نوعیت کا جوہری آلہ تیار کر سکتا ہے، جس کا مقصد زیادہ تر سیاسی اور دفاعی پیغام دینا ہوگا، نہ کہ مکمل فوجی برتری حاصل کرنا۔ تاہم اس کے باوجود یہ واضح نہیں کہ ایسا قدم ایران کے لیے مکمل تحفظ فراہم کر سکے گا۔

ادھر یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ایران اس راستے پر چلتا ہے تو خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے، اور دیگر ممالک، خاص طور پر سعودی عرب، بھی جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی آئندہ جوہری پالیسی کا انحصار موجودہ جنگ، اندرونی دباؤ اور نئی قیادت کے فیصلوں پر ہوگا، اور یہی عوامل طے کریں گے کہ آیا تہران اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم رہتا ہے یا ایک نیا راستہ اختیار کرتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں