ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل: ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے نئے دور کی جانب قدم

وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بتایا کہ حکومت 14 اگست 2025 تک ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے بنیادی ڈھانچے کو متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس ضمن میں “ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل” پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد تمام پاکستانیوں کے ڈیٹا کو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر یکجا کرنا ہے۔

یہ منصوبہ ایک فزیکل قومی شناختی کارڈ کا متبادل پیش کرتا ہے، جسے سرکاری لین دین، پاسپورٹ کی درخواست، اور بینک اکاؤنٹس کھولنے جیسے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ ڈیجیٹل نیشنل آئی ڈی سے بیوروکریسی کی پیچیدگیاں کم ہوں گی، فائلوں کے پھنسنے کا مسئلہ حل ہوگا، اور ہیلتھ سیکٹر کو بیماریوں کے ڈیٹا تک فوری رسائی حاصل ہوگی۔

قومی مفاد کے لیے وسیع مشاورت

شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ یہ قانون قومی مفاد میں ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد پیش کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ملکوں کو ڈیجیٹلائز کرنے میں 10 سے 20 سال لگتے ہیں، لیکن پاکستان اس منصوبے کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ڈیپ منصوبے کے لیے ورلڈ بینک نے 78 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔

یہ نظام عام شہریوں کے لیے سہولت پیدا کرے گا۔ اگر کوئی چھوٹا کاروبار شروع کرنا چاہے، تو اسے متعدد اداروں کے چکر کاٹنے کے بجائے ایک ڈیجیٹل آئی ڈی سے تمام کام مکمل ہو جائے گا۔

بل پر اعتراضات اور تحفظات

کمیٹی کے چند ارکان نے بل پر تحفظات کا اظہار کیا۔ شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کمیٹی کو اعتماد میں لیے بغیر اس قانون کا اعلان کیا گیا، جبکہ عمر ایوب نے منصوبے میں جلد بازی پر اعتراض کیا۔ ارباب عالم نے کہا کہ اتنے اہم قانون کے لیے مناسب وقت اور مشاورت درکار ہے۔

وزیر مملکت نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور ڈیجیٹلائزیشن میں تاخیر ملک کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہر چیز کو سرویلنس کے نظر سے دیکھنا ہے، تو پرانے وقتوں کی طرف لوٹ جانا پڑے گا۔
ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل کا مقصد ملک کو جدید ڈیجیٹل نظام کی جانب لے جانا ہے، لیکن اس پر تمام فریقین کی مشاورت اور شفافیت یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ یہ منصوبہ تمام شہریوں کے لیے مفید ثابت ہو۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں