شدید گرمی اور حبس میں ڈی ہائیڈریشن سے کیسے بچا جائے ؟

یہ بات مشہور ہے کہ پسینہ آنا جسم کا خود کو ٹھنڈا کرنے کا طریقہ ہے۔ جب آپ کو پسینہ آتا ہے تو آپ کا جسم پانی، نمکیات اور دیگر معدنیات کھو دیتا ہے۔ لیکن جو آپ نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ جسم سے کم ہونے والے اس فلیوڈ یا سیال کی کمی پورے کرنے کے لئے آپ کو کتنے اور کس قسم کے فلیوڈ کی ضرورت ہے۔

پہلے تو یہ بات سمجھ لیں کہ امریکہ کے مشہور کلیولینڈ کلینک کے مطابق شوگر اور کیفین والے مشروبات پانی کی کمی دور کرنے کے بجائے مزید کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹرز یہ کہتے ہیں کہ اکثرلوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا اور وہ جسم کی ضرورت کے مطابق لیکوڈز نہیں لیتے۔ اس حوالے سے یہ یاد رکھیں کہ آج تک تاریخ انسانی میں ڈی ہائیڈریشن دور کرنے کے جو بہترین مشروب، لیکوڈ، فلیوڈ یا سیال سامنے ہے، وہ پانی ہے۔ سادہ پانی ۔ اس لئے پانی کی خاصی مقدار جسم میں شامل کریں۔ البتہ جب شدید حبس ہو، پسینہ بہت زیادہ آئے تو نمکیات بھی خارج ہوتے ہیں، تب پانی کے ساتھ الیکٹرولائٹ بھی لیں۔ الیکٹرولائٹ والا مشروب لیں یا گھر میں لیموں پانی یا سکنجبین بنا کر لیں۔

نیویارک کے ڈاکٹروں کی ایک ریسرچ کے مطابق لوگ اکثر مناسب مقدار میں فلیوڈ یا سیال نہیں پیتے ہیں۔ دراصل آپ کو احساس سے زیادہ سیال پینے کی ضرورت ہے۔ یہ تمام حالات پر لاگو ہوتا ہے، چاہے آپ ائر کنڈیشنگ کے نیچے گھر کے اندر بیٹھے ہوں، ورزش کر رہے ہوں، پول میں جا رہے ہوں یا شدید گرمی میں باہر کام کر رہے ہوں۔ آپ کو ہمیشہ اس وقت تک انتظار نہیں کرنا چاہیے جب تک کہ آپ کو پیاس نہ لگے ، آپ کو دن بھر سیال پینا چاہیے، کھانے کے ساتھ بھی پانی پینا چاہیے۔

پانی یقینی طور پر پینے کے لیے بہترین مائع ہے۔ آپ پانی کھو دیتے ہیں اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیشنل اکیڈمیز آف سائنسز، انجینئرنگ اور میڈیسن کا کہنا ہے کہ خواتین کو عام طور پر روزانہ تقریباً 2.7 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ مردوں کو 3.7 لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسی غذائیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے وہ مجموعی طور پر ہائیڈریشن کے لیے اچھے ہوتے ہیں۔ ان میں کھیرے، تربوز، لیٹش، ٹماٹر اور سٹرابیری شامل ہیں۔
کلیولینڈ کلینک کے مطابق میٹھے مشروبات اور کیفین پانی کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ٹوبمین کا کہنا ہے کہ کیفین ایک پیشاب آور ہے اور پانی کی کمی کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

اگر کوئی شخص عام طور پر صحت مند ہے تو اس کی ہائیڈریشن کی سطح کا اندازہ لگانے کا سب سے آسان طریقہ اس کے پیشاب کی جانچ کرنا ہے۔ انہیں باقاعدگی سے پیشاب کرنا چاہئے اور اگر وہ نہیں کر رہے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ انہیں زیادہ سیال کی ضرورت ہے۔ پیشاب ہلکا پیلا ہونا چاہئے، اگر یہ گہرے رنگ کا ہے تو آپ کو مزید پانی کی ضرورت ہے۔

چکر آنا، تھکاوٹ، سر درد، متلی، پٹھوں میں درد، الجھن اور چڑچڑاپن پانی کی کمی کی علامات ہیں۔ اگر کسی شخص کو اس کا تجربہ ہوتا ہے تو ڈاکٹرز کسی بھی جسمانی سرگرمی کو روکنے، ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں جانے اور جسم کو ہائیڈریٹ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ اگر وہ چند منٹوں میں بہتر محسوس نہیں کرتے ہیں تو انہیں طبی امداد لینے کی بھی ضرورت پڑسکتی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں