بڑھاپے میں ڈپریشن دماغی بیماریوں کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے: نئی تحقیق

ایک حالیہ طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمر رسیدہ افراد میں ڈپریشن بعض سنگین دماغی بیماریوں، خصوصاً پارکنسنز اور لیوی باڈی ڈیمنشیا کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ مطالعہ معروف طبی جریدے جنرل سائیکاٹری میں شائع ہوا ہے۔

تحقیق کے مطابق وہ بزرگ افراد جو ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، ان میں بعد ازاں پارکنسنز یا لیوی باڈی ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ محققین نے پایا کہ ڈپریشن کا خطرہ وقت کے ساتھ بڑھتا رہتا ہے اور بیماری کی تشخیص سے تقریباً تین سال قبل اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ بیماری کے بعد بھی یہ خطرہ عام افراد کے مقابلے میں زیادہ رہتا ہے۔

اس مطالعے کے لیے ڈنمارک کے 17 ہزار 700 سے زائد مریضوں کے طبی ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا، جنہیں پہلے ہی پارکنسنز یا لیوی باڈی ڈیمنشیا کی تشخیص ہو چکی تھی۔ ان افراد میں ڈپریشن کی شرح کا موازنہ دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا بزرگ افراد سے کیا گیا، جن میں رمیٹائیڈ آرتھرائٹس، گردوں کی بیماریاں اور آسٹیوپوروسس شامل تھیں۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ ڈپریشن کا بڑھتا ہوا خطرہ صرف کسی دائمی بیماری کے ساتھ جینے کے جذباتی دباؤ کی وجہ سے نہیں تھا۔ تحقیق میں یہ عندیہ ملا کہ پارکنسنز اور لیوی باڈی ڈیمنشیا کے کیسز میں ڈپریشن کا تعلق دماغ میں ابتدائی تبدیلیوں سے ہو سکتا ہے، نہ کہ محض ذہنی دباؤ یا دیگر بیماریوں سے۔

مزید براں، تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد میں بعدازاں لیوی باڈی ڈیمنشیا کی تشخیص ہوئی، ان میں ڈپریشن کی شرح نسبتاً زیادہ تھی۔ مجموعی طور پر پارکنسنز یا لیوی باڈی ڈیمنشیا کے تقریباً 30 سے 40 فیصد مریض کسی نہ کسی مرحلے پر ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس تحقیق کے نتائج بڑھاپے میں ڈپریشن کے علاج اور دماغی بیماریوں کی ابتدائی شناخت کے لیے اہم معلومات فراہم کرتے ہیں، اور والدین، بزرگ افراد اور صحت کے پیشہ ور افراد کے لیے رہنمائی کا کام کر سکتے ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں