پاکستان: گزشتہ دہائی میں کپاس کی پیداوار میں 34 لاکھ گانٹھ کی کمی، تجارتی خسارے میں اضافہ

پاکستان کو کپاس کی پیداوار میں خطرناک حد تک کمی کا سامنا ہے، جس سے ملکی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ معاشی تحقیقاتی تھنک ٹینک، اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ (ای پی بی ڈی) نے اس صورتحال پر الرٹ جاری کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کو مزید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
گزشتہ دس برسوں میں کپاس کی پیداوار میں 34 لاکھ گانٹھوں کی کمی واقع ہوئی ہے۔ 2014 میں کپاس کی پیداوار 1 کروڑ 36 لاکھ گانٹھوں تک تھی، جو 2023 میں گھٹ کر صرف 1 کروڑ 2 لاکھ گانٹھوں تک رہ گئی۔ یہ کمی ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا انحصار بڑی حد تک مقامی کپاس پر ہے۔
کپاس کی پیداوار میں اس نمایاں کمی کے باعث، گزشتہ ایک سال میں ملک کو 1.61 ارب ڈالر مالیت کی کپاس درآمد کرنا پڑی۔ یہ درآمدات نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈال رہی ہیں، بلکہ تجارتی خسارے میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔
ای پی بی ڈی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ ،10 لاکھ ایکڑ رقبے پر جلد بوائی (اگیتی کاشت) کرنے سے 35 کروڑ ڈالر کی درآمدی لاگت بچائی جا سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ، اگر وسط مارچ سے وسط اپریل تک کپاس کی بوائی کی جائے تو پیداوار میں 14 سے 35 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔اگر 15 اپریل تک بوائی مکمل کر لی جائے تو کسان فی ہیکٹر ڈیڑھ لاکھ روپے زائد منافع حاصل کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں پنجاب حکومت کی جانب سے کپاس کی بروقت کاشت کیلئے 25 ہزار روپے امداد کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق،موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کپاس کی دیر سے کاشت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دیر سے بوائی کے نتیجے میں گلابی سنڈی کے حملے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جس سے پیداوار شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ وقت پر کاشت کرنے سے کپاس کی فصل کو شدید موسمی اثرات اور کیڑوں کے حملوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
ای پی بی ڈی کے مطابق، کپاس کی بہتر پیداوار نہ صرف ملکی معیشت کی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، بلکہ اس سے غربت میں کمی بھی ممکن ہے۔ اگر کپاس کا زیر کاشت رقبہ بڑھایا جائے تو 10 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ کپاس کی پیداوار میں اضافے سے ٹیکسٹائل انڈسٹری مستحکم ہوگی اور برآمدات کو فروغ ملے گا، جس سے ملکی معیشت کو براہ راست فائدہ ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ، اگر حکومت کسانوں کو مزید مراعات اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کرے تو کپاس کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے تحقیقی مراکز کو فعال کرنے اور جدید زرعی طریقے اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
اگر کپاس کی پیداوار میں کمی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کو مستقبل میں مزید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے بروقت اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں