گزشتہ روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ نے ایک مرتبہ پھر ہماری معیشت کا وہ پہلو بے نقاب کیا ہے جو برسوں سے ہماری آنکھوں کے سامنے کھڑا ہے لیکن ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ اب تاریخی حدوں کو چھو رہا ہے اور یہ سوال سب کے ذہنوں میں ہے کہ یہ بوجھ بڑھا کیسے؟
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سرکاری اخراجات ہمیشہ آمدنی سے زیادہ رہے۔ وفاقی خزانے کا خسارہ براہِ راست قرض کی ضرورت میں بدلتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سودی ادائیگیاں وہ خاموش لیکن مہلک بوجھ ہیں جن پر ہر سہ ماہی میں کھربوں روپے ادا کئے جاتے ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے کیونکہ جتنا روپیہ گرتا ہے اتنے ہی ہمارے بیرونی قرضے روپے میں بڑھ جاتے ہیں۔ یوں قرض کی جبلت ہر سال اور اونچی ہوجاتی ہے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مارچ 2025 تک پاکستان کا کل عوامی قرضہ 76 ہزار ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔ اس میں اندرونی قرضے تقریباً 51 کھرب روپے ہیں جبکہ بیرونی قرضے 87 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔ اگر تمام ذمہ داریاں شامل کی جائیں تو یہ رقم 130 ارب ڈالر سے تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ وہ بوجھ ہے جسے ہم نسل در نسل ڈھو رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کے ساتھ ہماری وابستگی کی تاریخ بھی کم دلچسپ نہیں۔ پچھلے تیس برسوں میں پاکستان نے تقریباً 29 ارب ڈالر قرض لیا اور اس میں سے 21 ارب ڈالر واپس کئے۔ صرف گزشتہ چار برسوں میں ہی پاکستان نے 6.2 ارب ڈالر کا نیا قرض لیا اور 4.5 ارب ڈالر واپس کیے۔ 2024 میں ہمیں 7 ارب ڈالر کا نیا پروگرام ملا جو پاکستان کا چوبیسواں بیل آؤٹ تھا۔ یہ اعزاز شاید ہی کسی اور ملک کے پاس ہوگا کہ اتنی بار ایک ہی دروازے پر دستک دے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ نے یہ بھی بتایا کہ اگست کے مہینے میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 3.1 ارب ڈالر وطن بھیجے۔ ان میں سب سے زیادہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھیجے گئے۔ یہ وہ رقوم ہیں جو ہمارے لاکھوں پردیسی بھائی اپنی محنت کی کمائی سے نکالتے ہیں تاکہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔ مگر ریاست ان پیسوں سے بجٹ کے خسارے کا چراغ جلاتی ہے اور حکمران اپنی عیاشیوں کے فانوس روشن کرتے ہیں۔ماضی میں عمران خان نے پاکستانیوں کو کہا تھا کہ وہ ملک پیسے نہ بھیجیں۔ شاید یہ ایک سیاسی نعرہ تھا لیکن ایک مزدور کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ خالی چھوڑ دے۔ وہ ہر حال میں پیسے بھیجے گا، چاہے خود بھوک برداشت کرے۔ یہی ترسیلات ہماری معیشت کا اصل سہارا ہیں۔مگر کیا یہ مستقل حل ہے؟ ہر سال قرض بڑھتا ہے، ہر مہینے ترسیلات آتی ہیں اور ہر دن خود انحصاری کم ہوتی ہے۔ رواں سال پاکستان کو 22 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرضے واپس کرنے ہیں۔ عالمی ادارے اصلاحات کی تعریف کرتے ہیں لیکن خطرات ابھی بھی بڑے ہیں۔ معیشت کی رفتار کچھ مثبت اشارے ضرور دے رہی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ہم نے بنیادی شعبوں، ٹیکس، صنعت اور زراعت پر توجہ نہ دی تو قرضوں کا ملبہ ہمیشہ ہمارے کندھوں پر رہے گا۔
سوال یہی ہے کہ ہم بطور قوم اپنا نام کس فہرست میں لکھوانا چاہتے ہیں؟ قرض لینے والی قوم کی فہرست میں یا خود انحصار اقوام کی صف میں؟ ہر حکومت قرضے لیتی ہے، آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لیتی ہے اور پھر اگلی حکومت کو یہ بوجھ منتقل کردیتی ہے۔ اگر یہ روش جاری رہی تو ایک دن قرضہ ہماری جی ڈی پی کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا اور ہم جشن منائیں گے کہ ہم نے تاریخ رقم کرلی۔ مگر یہ تاریخ کس کے حق میں ہوگی؟ عوام کے یا قرض دینے والوں کے؟