ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی کے بارے میں ان دنوں مختلف قیاس آرائیاں تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔ ڈیلی میل کے مطابق، بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے انہیں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے شبہے میں گرفتار کرنے کے بعد سزائے موت دے دی ہے، تاہم تہران کی جانب سے ان خبروں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
عرب ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی خبروں کے مطابق یہ دعوے سامنے آئے کہ اسماعیل قاآنی کو جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا گیا اور ممکن ہے کہ انہیں موت کی سزا بھی دے دی گئی ہو۔ متحدہ عرب امارات کے ایک خبر رساں ادارے کے مطابق، یہ اطلاعات ابھی تک تصدیق شدہ نہیں ہیں، لیکن انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر یہ خبریں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ قاآنی کئی خطرناک حملوں سے حیران کن طور پر بچ نکلنے کی شہرت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، 67 سالہ اسماعیل قاآنی کو بعض حلقوں میں ‘نو جانوں والا آدمی’ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ متعدد ایسے حملوں سے محفوظ رہے جن میں ان کے قریبی ساتھی مارے گئے تھے۔ انہوں نے جنوری 2020 میں قدس فورس کی قیادت سنبھالی تھی۔ اس سے پہلے اس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی تھے جنہیں امریکہ نے عراق میں ایک حملے کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔
قدس فورس ایران کی ایک اہم عسکری شاخ ہے جو بیرونِ ملک کارروائیوں کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے۔ اس فورس کا کام مشرقِ وسطیٰ میں مبینہ طور پر ایران کے اتحادی گروہوں کو منظم کرنا، انہیں اسلحہ فراہم کرنا اور مختلف کارروائیوں میں ان کی رہنمائی کرنا ہے۔ اس نیٹ ورک کو اکثر ‘مزاحمتی محور’ کہا جاتا ہے۔
اسماعیل قاآنی کی قیادت کے دوران اس نیٹ ورک کے کئی اہم رہنما مختلف حملوں میں مارے گئے۔ ان میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ بھی شامل ہیں جو لبنان میں ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے۔ اسی طرح حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کو بھی تہران میں قتل کر دیا گیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کچھ افواہوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ممکن ہے اسماعیل قاآنی نے وہ معلومات فراہم کی ہوں جن کی مدد سے اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنانے والا حملہ ممکن ہوا۔ بعض رپورٹس کے مطابق، قاآنی نے تہران میں ایک خفیہ مقام پر ہنیہ سے ملاقات کی تھی اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد اس مقام پر دھماکہ ہوا جس میں ہنیہ مارے گئے۔
گزشتہ برسوں میں خطے میں ہونے والے مختلف حملوں میں ایرانی فوج کے کئی اعلیٰ کمانڈر بھی مارے جا چکے ہیں۔ حال ہی میں ایک مشترکہ امریکی اور اسرائیلی کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت حکومت کے کئی اہم عہدیدار بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم اسماعیل قاآنی اس واقعے میں بھی محفوظ رہے تھے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسی وجہ سے بعض حلقوں میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ وہ ان مقامات کے قریب موجود تھے جہاں بعد میں مہلک حملے ہوئے۔ کچھ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، وہ اس دھماکے کی جگہ سے چند منٹ پہلے نکل گئے تھے جس میں خامنہ ای مارے گئے، جس کے بعد بعض لوگوں نے یہ قیاس آرائی شروع کر دی کہ شاید وہ خفیہ معلومات اسرائیل تک پہنچا رہے تھے۔
ان قیاس آرائیوں کو اس وقت مزید تقویت ملی جب یہ خبر سامنے آئی کہ اسرائیلی خفیہ ادارے کے ایک مبینہ ایجنٹ نے خامنہ ای کی لاش کی ویڈیو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمین نیتن یاہو کو بھیجی تھی۔
اسرائیل نے اس سے پہلے ایرانی اور ایران سے منسلک کئی اہم شخصیات کی ایک فہرست جاری کی تھی جنہیں وہ نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ بعد میں اعلان کیا گیا کہ یہ فہرست مکمل ہو چکی ہے، لیکن اس میں اسماعیل قاآنی کا نام شامل نہیں تھا جس نے مزید سوالات کو جنم دیا۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران بعض خفیہ ذرائع کے حوالے سے ایسی رپورٹس بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ قاآنی کئی ایسے اجلاسوں یا مقامات کے قریب تھے جنہیں بعد میں حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے دوران بھی بعض ذرائع ابلاغ نے قاآنی کی موت کی خبر دے دی تھی، لیکن بعد میں وہ اچانک تہران میں ایک عوامی تقریب میں نظر آئے۔ اسی طرح اکتوبر دو ہزار چوبیس میں بھی ان کے بارے میں موت اور گرفتاری کی خبریں سامنے آئی تھیں، لیکن بعد میں وہ ایرانی ٹیلی وژن پر ظاہر ہو گئے۔
اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کی قیادت تک رسائی حاصل کرنے کے بعد ایران نے اپنی سکیورٹی میں ممکنہ نقائص کی باقاعدہ تحقیقات شروع کی تھیں۔ بعض علاقائی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسی تفتیش کے دوران قاآنی اور ان کی ٹیم کے چند افراد کو تنہائی میں رکھ کر پوچھ گچھ بھی کی گئی۔
اب بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اسماعیل قاآنی کو پاسدارانِ انقلاب نے سزائے موت دے دی ہے، تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔