ڈی ایٹ سمٹ 2024 کا انعقاد 18 اور 19 دسمبر کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہوا۔ اس دو روزہ اجلاس میں ڈی ایٹ کے رکن ممالک، جن میں پاکستان، ترکی، مصر، بنگلہ دیش، ایران، انڈونیشیا، ملائیشیا، اور نائیجیریا شامل ہیں، ان کے سربراہان، وزراء، اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ڈی ایٹ، جسے ڈیولپنگ ایٹ بھی کہا جاتا ہے، ترقی پذیر مسلم ممالک کی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سائنسی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اس سمٹ کا موضوع “ڈی ایٹ پارٹنرشپ برائے عالمی ترقی” تھا، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز، تجارتی تعلقات کی توسیع، اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیرِاعظم شہباز شریف نے کی، جنہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ڈی ایٹ ممالک کے مابین تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان ڈی ایٹ کے مقاصد کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ ٹیکنالوجی، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ رکن ممالک کو ڈی ایٹ فری ٹریڈ ایریا کے قیام پر غور کرنا چاہیے۔
سمٹ کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف نے مختلف رکن ممالک کے سربراہان، بشمول ترکی، مصر، بنگلہ دیش اور ایران کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، تجارتی شراکت داری، توانائی کے منصوبے، اور علاقائی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ان ملاقاتوں میں انہوں نے پاکستان کی اقتصادی ترجیحات اور ڈی ایٹ کے پلیٹ فارم کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے پر زور دیا۔
اجلاس میں رکن ممالک نے متعدد معاہدوں اور اعلامیوں پر دستخط کیے، جن کا مقصد باہمی تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنا اور ترقی پذیر معیشتوں کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔