عام بندہ ایک ماہ میں ریشم سازی سے کتنا منافع کماسکتا ہے ؟

ریشم سازی کی صنعت صدیوں سے لوگوں کی آمدن کا اہم ذریعہ رہی ہے۔ ریشم کے مجموعی پیداور کے ساتھ یہ گھریلو فن کے طور پر بھی کافی مشہور ہے۔ اس کے بارے میں خیال کیا جاتا رہا ہے کہ یہ باریک بینی کا کام ہے ، جس کے لیے قریب نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، جدید دور میں ریشم کے کیڑوں کی افزائش اور اس سے ریشم بنانے کا عمل انتہائی تیز اور آسان ہوگیا ۔

چھوٹے پیمانے پر بھی اس کاروبار کے ذریعے صرف ایک ماہ میں ہزاروں کا منافع کمایا جاسکتا ہے۔پاک پتن سے تعلق رکھنے والے غلام رسول گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں شجر کاری مہم میں مصروف ہے۔ اس دوران انہوں نے توت کے بھی کئی درخت ماحول کی آبیاری کے لیے لگائیں۔

توت کے پتوں کے ضیاع کودیکھتے ہوئے انہیں خیال سوجھا کہ کیوں نا اسے استعمال میں لایا جائے اور قدیم روایت کو جدید شہروں میں زندہ کرتے ہوئے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اس عمل سے بیروزگاری کے شکار لوگوں کو نہ صرف تجارت کی ایک قدیم راہ پر قائل کیا جاسکتا ہے جبکہ ماحول دوست کاروبار کو بھی پروان چھڑایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ‘ریشم کے کیڑے پالنے سے پہلے دس سے پندرہ توت کے درخت ہونے چاہیے، جس کے پتوں کو اتار کر ان کے لیے خوراک کےطور پراستعمال کیا جاسکے۔دوسرے مرحلے میں اس کاروبار کا آغاز صرف موجودہ وقت میں 4500 سے شروع ہوتا ہے،جس میں ریشم کے کیڑوں کے انڈوں کا پیکٹ آجاتا ہے۔’

ان کے مطابق ، ‘ ہم نے پیکٹ لینے کے بعد انڈوں کو ایک کمبل میں لپیٹا اور کچھ ہی دنوں میں اس سے بچے نکلنا شروع ہوئے۔اس کے لیے کسی خاص اہتمام یا ماحول کی سازگاری کی ضرورت نہیں پڑی، اور چند دنوں میں تیرہ ہزار ریشم کے کیڑے نکل آئے۔ اس کے بعد انہیں صاف جگہ پر کاغذ پر بچھایا گیااور افزائش کا عمل شروع ہوا۔’

ریشم کے کیڑوں کا خوراک صرف توت کے پتے ہیں۔ غلام رسول کہتے ہیں کہ’ان پتوں کو باریک باریک کر کے اوپر ڈالتے گئے اور ایک میز پر موجود وہ کیڑے اب اٹھائیس دنوں کے بعد 9 چارپائیوں پر منتقل ہوگئے ہیں۔ ان کی موجودہ صحت اچھی ہے، اس کے لیے انہیں دن میں تین بار اور رات کو دو بار توت کے پتے کھلائے جاتے ہیں۔’

یہ سارا عمل محض تیس سے پینتیس دنوں پر محیط ہے۔ ایک ماہ کے قلیل عرصے میں اس سے ہزاروں روپے کمائے جاسکتے ہیں۔ غلام رسول کا اس کام میں کوئی تجربہ نہیں ہے لیکن وہ پھر بھی اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یعنی، اس بات کا امکان موجود ہے کہ بیروزگاری سے تنگ کوئی بھی فرد اس کام کا آغاز کرسکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ’پچیس دنوں تک یہ کیڑے کوکون بنانا شروع کردیتے ہیں اور ایک کوکون پر تقریبا آٹھ سو میٹر تک ریشم ہوتا ہے۔اس کو بازار میں گیلا بھی فروخت کیا جاسکتا ہے، جو گزشتہ سال کی قیمت کے مطابق بارہ سے پندرہ سو روپے کلو تھا۔مہارت رکھنے والے افراد اسے خشک کرنے کے بعد بیچیں گے تو پانچ ہزار تک کلو فروخت ہوگا۔’

اس وقت غلام رسول کے پاس 13 ہزار کیڑے موجود ہیں۔ اندازے کے مطابق شاید اس سے 25 کلو تک ریشم نکل آئے گا۔اس حساب سے خشک کیے بغیر بھی فروخت کرنے کے بعد ایک ماہ میں 20 سے 30 ہزار تک کا منافع ہوسکتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں