تاریخی شٹاٹ وال سے موانست

جرمنی کے شہر گوٹنگن کے اولڈ ٹاؤن کے قیام کے دوران میں تاریخی شٹاٹ وال گوٹنگن سے ایک موانست سی ہوگئی ہے۔ یہ اولڈ ٹاؤن کے ارد گرد اور موجودہ شہر کے بیچوں بیچ سکون، فطرت اور تاریخ کا حسین امتزاج پیش کرتی ایک خوب صورت دیوار ہے، جس کی داستان بڑی دل فریب ہے۔یہ دیوار چودھویں صدی عیسوی میں شہر کے اولڈ ٹاؤن یا ڈاؤن ٹاؤن کے گرد شہر کی حفاظت اور اسے بیرونی خطرات سے بچانے کی غرض سے بنائی گئی تھی۔ تین کلو میٹر سے زیادہ دائرے میں پھیلی اس دیوار میں 30 مینار اور خندقین تھیں۔

تاریخ میں واقع ہونے والی مشہور سات سالہ جنگ (جو 1756 سے 1763 کے دوران میں دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان ہوئی تھی ) کے بعد 1765 میں یہ دیوار عوامی تفریحی راستے (Promenade) میں بدل گئی ۔ اس وقت سے یہ ایسا واک وے ہے ، جو عوام ، طالب علموں اور پروفیسروں وغیرہ کی چہل قدمی اور اس کے دوران میں گپ شپ اور علمی مذاکروں کے مقام کا روپ دھارے ہوئے ہے۔

اس دیوار پر چلتے ہوئے طویل سبز پٹی کے ساتھ ساتھ سیکڑوں قدیم لنڈن (Linden) درخت ،نیچے شہر کےسرخ چھتوں والے گھر ، گرجا گھروں کے مینار اور قریبی پہاڑیوں کے مناظر بہت ہی دل کش نظارہ پیش کرتے ہیں۔ دیوار کا یہ ٹریک سارا سال کھلا رہتا ہے، اور شہر کے مختلف حصوں سے اس پر چڑھنے کے لیے راستے موجود ہیں۔

اس دیوار سے کئی تاریخی شخصیات و مقامات بھی متعلق ہیں۔ مثلاً پرانی دیوار کا بچ جانے والا واحد مینار بِسمارک ہاؤس مشہور جرمن سیاستدان اوٹو وان بسمارک کی یاد گار ہے، جس نے اپنے طالب علمی کے دوران یہاں وقت گزارا تھا۔دیوار کے بالکل ساتھ ایک اولڈ بوٹینیکل گارڈن ہے، جو 1736 میں بنایا گیا تھا۔ یہ باغ دیوار کے بالکل ساتھ واقع ہے اور آپ دیوار سے براہ راست اس میں داخل ہو سکتے ہیں۔

ایک یاد گار گاؤس-ویبر یادگار (Gauss-Weber Monument) ، کانسی کا مجسمہ ہے، جومشہور سائنس دانوں کارل فریڈرک گاؤس اور ولہیم ویبر کی یاد میں بنایا گیا ہے، جنھوں نے پہلا الیکٹرو میگنیٹک ٹیلی گراف ایجاد کیا تھا۔ ایک اور چیز چیلٹن ہیم پارک (Cheltenham Park) کے نام سے دیوار کے مشرقی حصے پر واقع ایک پرسکون پارک ہے، جس کا نام گوئٹنگن کے برطانوی جڑواں شہر کے نام پر رکھا گیا ہے۔

ایک دل چسپ داستان شہر کے قدیم دروازوں کی ہے۔ اگرچہ پرانے دروازے اب موجود نہیں، لیکن Weender Tor اور Groner Tor جیسے نام اب بھی مشہور ہیں، جو فی الاصل ان مقامات کی نشان دہی کرتے ہیں جہاں سے دیوار شہر کی اہم سڑکوں یا گلیوں سے ملتی ہے۔
ڈاؤن ٹاوں سے یونی ورسٹی جاتے ہوئے یا ویسے گھومنے کی غرض سے کئی بار اس دیوار پر چہل قدمی کا اتفاق ہوتا ہے ۔

گذشتہ دنوں یونی ورسٹی جاتے ہوئے یہاں سے گزرا تو دیوار کی خوب صورتی اور حفاظت کے حوالے سے کام کرنے والے ایک ورکر سے گپ شپ ہوئی۔ اس کو اپنا تعارف کرایا تو اس نے بہت محبت کا اظہار کیا اور دیوار کی تاریخی اہمیت کے بارے اہم اور دل چسپ باتیں بتانے لگا۔کہنے لگا کہ آپ اس کی سیر کو آئے ہیں اور ابھی نکلنا چاہتے ہیں تو چہل قدمی کرتے ہوئے چلتے چلے جائیں، ٹھیک ایک گھنٹے بعد آپ پورے اولڈ سٹی کا چکر لگا کر اسی مقام پر آجائیں گے، جہاں ہم اس وقت کھڑے ہیں ۔

جب شہر سے نکلنے والا پرانے گیٹ کا مقام یا موجودہ سڑک آتی ہے، تو دیوار نیچے کا چلی جاتی ہے، وہ گزرتی ہے تو پھر آپ اوپر کو چڑھنے لگتے ہیں، یہ صورت ہر تھوڑے سفر کے بعد پیش آتی ہے۔ یہ اتار چڑھاؤ دیوار کی سیر میں ایک الگ خوب صورت منظر ہے، جو اپنی دل کشی کے ساتھ ساتھ قدیم شہر سے نکلنے والی سڑکوں ، اس کے قدیم دروازوں اور یہاں کی قدیم تہذیب اور شہری نظم و ترتیب کی یاد دلاتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں