چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی مصنوعات پر لگائے گئے جامع محصولات کا جواب دیتے ہوئے امریکی درآمدات پر مخصوص محصولات عائد کر دیے، ساتھ ہی گوگل کے خلاف اینٹی ٹرسٹ تحقیقات اور دیگر تجارتی اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔
کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر امریکی محصولات بھی نافذ ہونے والے تھے، تاہم ٹرمپ نے ان ممالک کے سرحدی سیکیورٹی اور منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق خدشات پر عمل درآمد کو 30 دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔
بیجنگ میں یونیورسٹی آف انٹرنیشنل بزنس اینڈ اکنامکس کے پروفیسر جان گونگ کے مطابق، "چین اس تجارتی جنگ کو بڑھانے کے حق میں نہیں اور وہ کینیڈا اور میکسیکو کی طرح کسی نرم رویے کی امید رکھتا ہے”۔
یہ پہلا موقع نہیں جب چین اور امریکہ کے درمیان اس قسم کے تجارتی اقدامات کا تبادلہ ہوا ہو۔ 2018 میں بھی اس وقت کے صدر ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر محصولات بڑھائے تھے، جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر جوابی اقدامات کیے تھے۔
ماہرین کے مطابق، اس بار چین پہلے سے زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ میدان میں اترا ہے۔ چینی حکومت نے مختلف شعبوں میں جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں توانائی، امریکی کمپنیاں اور دیگر کلیدی سیکٹر شامل ہیں۔
امریکی برآمدات پر ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان جوابی محصولات سے امریکی برآمدات پر محدود اثر پڑے گا۔ چین نے گزشتہ سال مجموعی طور پر صرف 7 لاکھ گاڑیاں درآمد کیں، جن میں زیادہ تر یورپ اور جاپان سے تھیں۔ اس لیے امریکی کار انڈسٹری پر اس فیصلے کا محدود اثر پڑنے کا امکان ہے۔
اہم معدنیات پر چین کی برآمدی پابندیاں
چین نے جدید ٹیکنالوجی کی تیاری میں استعمال ہونے والے اہم عناصر پر برآمدی کنٹرول کا اعلان کیا ہے۔ ان عناصر میں ٹنگسٹن، ٹیلیریم، بسمرتھ، مولبڈینم اور انڈیم شامل ہیں، جنہیں امریکی جیولوجیکل سروے نے "اہم معدنیات” قرار دیا ہے کیونکہ یہ امریکی معیشت اور قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔
گوگل کے خلاف تحقیقات اور امریکی کمپنیوں پر پابندیاں
چین کے مارکیٹ ریگولیٹر "اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن فار مارکیٹ ریگولیشن” نے اعلان کیا کہ وہ گوگل کے خلاف اینٹی ٹرسٹ قوانین کی خلاف ورزی کے شبہے میں تحقیقات کر رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اعلان کا وقت ٹرمپ کی جانب سے چین پر 10 فیصد محصولات نافذ کرنے کے چند ہی منٹ بعد سامنے آیا۔
گوگل کا چین میں پہلے ہی محدود وجود ہے، کیونکہ اس کا سرچ انجن اور دیگر مغربی پلیٹ فارمز طویل عرصے سے چین میں بلاک ہیں۔ گوگل نے 2010 میں چینی مارکیٹ اس وقت چھوڑ دی تھی جب اس نے حکومتی سینسر شپ کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا اور سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تجارتی تنازع میں مزید شدت آسکتی ہے کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف مزید اقتصادی اقدامات کر سکتے ہیں۔ تاہم، چین کا ردعمل اب تک متوازن نظر آ رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ تصادم کو مکمل اقتصادی جنگ میں تبدیل کرنے کے بجائے بات چیت کے امکانات کھلے رکھنا چاہتا ہے۔