مزید ٹیرف عائد کرنے کی امریکی دھکمی کے خلاف آخری حد تک لڑیں گے، چین

چین اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، اور اس بار محاذ آرائی کا مرکز بنے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی مصنوعات پر 50 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کی نئی دھمکی۔ اس اعلان کے بعد بیجنگ نے بھی دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے ‘آخری دم تک لڑنے’ کا اعلان کیا ہے، جس سے عالمی مارکیٹس میں ہلچل مچ گئی ہے اور کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری داؤ پر لگ گئی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی روایت کے مطابق، جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ، وہ کسی بھی قیمت پر چین سے تجارتی خسارہ کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، چاہے اس کے لیے عالمی معیشت کو ہی کیوں نہ دھچکا لگے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک بیان کے دوران ٹرمپ نے کہاکہ، ہم اس پر ایک شاٹ لیں گے، یہ کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔
ادھر چین نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ، یہ محصولات دراصل امریکا کی ‘بلیک میلنگ’ ہے اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ، اگر امریکا نے اپنی پالیسی واپس نہ لی تو بیجنگ بھی 34 فیصد ٹیرف کے نفاذ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ وزارت خارجہ اور وزارت تجارت دونوں نے کھل کر کہا ہے کہ، اگر امریکا اپنی روش پر قائم رہا تو چین اپنے مفادات کے دفاع کے لیے آخری حد تک جائے گا۔
اگرچہ چین نے یہ بھی کہا ہے کہ، وہ اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس کا واضح پیغام ہے کہ، تجارتی جنگ میں کسی کو جیت نصیب نہیں ہوتی۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑنے لگے ہیں۔
امریکی ٹیرف کے بعد عالمی مالیاتی منڈیاں لرز کر رہ گئی ہیں۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 13.2 فیصد گر گیا، جو ایشیائی مالیاتی بحران کے بعد اس کی بدترین کارکردگی ہے۔ وال اسٹریٹ پر بھی مندی چھا گئی، جہاں ڈاؤ اور ایس اینڈ پی 500 میں 500 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
تھائی لینڈ، ویتنام، انڈونیشیا اور دیگر ایشیائی مارکیٹوں میں بھی منگل کے روز کھلتے ہی حصص کی قیمتوں میں گراوٹ دیکھنے کو ملی۔ شنگھائی اسٹاک ایکسچینج میں زبردست کمی کے بعد چین کے مرکزی بینک نے مداخلت کی اور مارکیٹ کو سہارا دینے کے لیے ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز خریدنے کا اعلان کیا۔
دوسری طرف سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ نے امریکی پالیسیوں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، یہ وہ رویہ نہیں جو دوستوں کے ساتھ روا رکھا جائے۔
صدر ٹرمپ کسی بھی قسم کے لچک کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ پیر کے روز انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ، وہ ٹیرف پر کوئی نرمی نہیں لائیں گے اور نہ ہی چین کے ساتھ کوئی ملاقات شیڈول ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ، وہ ایسے ممالک کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں جو مذاکرات میں سنجیدہ ہیں۔
اسی دوران ایک مثبت اشارہ جاپان کی طرف سے آیا، جہاں امریکی وزیر خارجہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ، جاپان کو امریکا کی طرف سے مذاکرات میں ترجیح دی جائے گی کیونکہ وہ فوری اقدامات پر آمادہ ہے۔
دنیا بھر سے امریکی درآمدات پر 10 فیصد ابتدائی ٹیرف ہفتے کے روز سے نافذ ہوچکا ہے، جب کہ بدھ سے متعدد ممالک کو مزید سخت محصولات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس میں چینی مصنوعات پر 34 فیصد اور یورپی یونین کی اشیاء پر 20 فیصد ڈیوٹی شامل ہے، جو عالمی تجارت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
ان بڑھتے ہوئے اقدامات نے پوری دنیا میں اقتصادی غیر یقینی صورتحال کو جنم دے دیا ہے، اور سرمایہ کار یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ، آگے کیا ہونے والا ہے۔ موجودہ صورتحال کا اگر کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے، تو وہ صرف اور صرف سفارتی تدبر ہے ، ورنہ بظاہر دنیا کی دو بڑی معیشتیں ایک بڑے تجارتی محاذ پر صف آراء ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں