چین کا امریکا سے ٹیرف ختم کرنے کا مطالبہ، تجارتی کشیدگی میں کمی کی امید

چین نے امریکا پر زور دیا ہے کہ، وہ اپنے جوابی محصولات (ٹیرف) کو مکمل طور پر ختم کرے، تاکہ دو طرفہ تعلقات میں بہتری آسکے اور عالمی تجارتی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے بعض الیکٹرانک اشیا اور چپ سازی کے اہم آلات کو عارضی استثنیٰ دینے کا عندیہ دیا ہے، جسے بیجنگ نے ایک ‘چھوٹا قدم’ قرار دیا ہے۔
چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ،ہم امریکا پر زور دیتے ہیں کہ، وہ اپنی پالیسیوں میں اصلاح کرے، تجارتی پابندیوں کی غلط روش ترک کرے اور باہمی احترام کے اصولوں پر واپس آئے۔
یاد رہے کہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی درآمدی محصولات میں اضافے کے بعد دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں ، امریکا اور چین ، ایک بار پھر ٹیرف کی جنگ میں الجھ گئی ہیں۔ چین نے اس کے ردعمل میں ہفتے کے روز سے امریکی اشیا پر 125 فیصد تک درآمدی محصولات لاگو کر دیے ہیں۔
صورتحال میں تھوڑی سی نرمی اس وقت آئی جب امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن آفس نے اعلان کیا کہ، اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس، میموری چپس اور دیگر صارفین کی اشیا کو ٹیرف سے وقتی طور پر مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ اس فیصلے سے ایپل، ڈیل اور این ویڈیا جیسی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں مستفید ہوں گی، کیونکہ یہ ادارے اپنی مصنوعات کی تیاری میں چین پر انحصار کرتے ہیں۔
تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ، یہ استثنیٰ صرف عارضی ہو سکتا ہے، کیونکہ مستقبل قریب میں ان مصنوعات کو بھی قومی سلامتی کی بنیاد پر مخصوص محصولات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ، وہ پیر کو اپنی پالیسی کی مزید تفصیلات پیش کریں گے، جب کہ وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کا کہنا ہے کہ، سیمی کنڈکٹرز پر نئے محصولات ایک یا دو ماہ میں نافذ ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ، وہ چین کے ساتھ کسی معاہدے کے لیے پرامید ہے، تاہم اب تک چینی صدر ،شی جن پنگ سے ٹرمپ کی کسی براہ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔
چین نے اس صورتحال میں خود کو ایک قابل اعتماد اور مستحکم تجارتی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے جنوب مشرقی ایشیا کے پانچ روزہ دورے کا آغاز کر دیا ہے، جس میں وہ ویتنام، ملائیشیا اور کمبوڈیا کے رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
ٹیرف کی پالیسیوں کے اثرات امریکی معیشت پر بھی واضح ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کار بانڈ مارکیٹ سے نکل رہے ہیں، ڈالر کی قدر میں کمی آئی ہے، اور صارفین کا اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ وال اسٹریٹ کے بڑے سرمایہ کاروں نے، جن میں کئی ٹرمپ کے حامی بھی شامل ہیں، کھل کر ٹیرف پالیسیوں کو نقصان دہ اور غیر پیداواری قرار دیا ہے۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ، ان اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور کئی ممالک نے مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم چین کے ساتھ جاری یہ تجارتی کشیدگی عالمی معیشت کے لیے ایک غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر رہی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں