بچوں کے بال ان کی ذہنی صحت کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتے ہیں

یونیورسٹی آف واٹرلو کی ایک تحقیق نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ بچوں کے بالوں میں موجود کورٹیسول ہارمون کی مقدار ان کی ذہنی صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔

کورٹیسول، جو کہ ایک "تناؤ والا ہارمون” ہے، جسم پر طویل مدتی دباؤ کی صورت میں خون میں بڑھ جاتا ہے۔ اگرچہ خون، تھوک یا پیشاب کے ذریعے کورٹیسول کی مقدار ناپی جا سکتی ہے، لیکن بالوں سے اس کی پیمائش زیادہ موثر سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ پچھلے ہفتوں یا مہینوں کے دوران جسم پر پڑنے والے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔

بالوں کی صحت جیسے کہ ٹوٹ پھوٹ، جھڑنا، خشکی یا رنگت میں تبدیلی جسمانی اور ذہنی دباؤ کا ایک اثر ہو سکتے ہیں، مگر یہ تبدیلیاں براہِ راست ذہنی صحت کی عکاسی نہیں ہوتیں بلکہ غذائیت، بیماری، ہارمونز یا ماحول جیسے عوامل بھی ان میں کردار ادا کرتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچوں میں اگر بالوں میں کورٹیسول کی مقدار مسلسل زیادہ ہو تو وہ ذہنی مسائل جیسے کہ ڈپریشن اور گھبراہٹ کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان بچوں میں جو پہلے سے کسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہوں۔

مزید برآں، بچوں میں رویے کی مشکلات اور ذہنی مسائل ان بچوں میں زیادہ دیکھے گئے جن کے بالوں میں کورٹیسول کی مقدار بلند تھی۔ خاندانی جھگڑے، مالی مشکلات، تشدد، یا والدین کی ذہنی بیماری جیسی مشکلات بچوں کے ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہیں، جو بالآخر ان کے بالوں میں کورٹیسول کی سطح پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

اس تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بچوں کے بالوں کا تجزیہ ذہنی صحت کے ایک اہم اشارے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ صرف ایک اشارہ ہوتا ہے اور مکمل تشخیص کے لیے دیگر عوامل اور طبی معائنے ضروری ہوتے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں