عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منگل کے روز ایک ہنگامی اپیل جاری کی ،جس کا مقصد مچھر سے پھیلنے والے چکن گنیا وائرس کی وبا کے پھیلاو سے متعلق آگاہی پھیلانا ہے۔ اس وائرس نے دو دہائیاں قبل پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
اس کی حالیہ لہربحرِ ہند کے خطے سے جُڑی ہے جو اب آہستہ آہستہ یورپ اور دیگر براعظموں تک پھیل رہی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی میڈیکل آفیسر، ڈیانا روجاس الواریز نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ، تقریبا5.6 ارب لوگ دنیا کے 119 ممالک میں ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں یہ وائرس پھیلنے کا خطرہ ہے۔ یہ وائرس تیز بخار، جوڑوں کے درد اور طویل مدتی معذوری کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ، ہم تاریخ کو خود کو دہراتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے 05-2004کی وبا کا ذکر کیا ،جس نے چھوٹے جزائر میں تقریبا پانچ لاکھ افراد کو متاثر کیااورپھر دنیا بھر میں پھیل گئی۔
موجودہ لہر کا آغاز 2025 کے اوائل میں ہوا، اور یہ دوبارہ انہی بحرِ ہند کے جزائر میں پھیل رہی ہے جو پہلے متاثر ہوئے تھے، جن میں لا ری یونین، مایوٹے اور ماریشس شامل ہیں۔
روجاس الواریز نے کہا کہ، لا ریو نیون کی آبادی کا تقریبا ایک تہائی حصہ پہلے ہی متاثر ہو چکا ہے۔ اب یہ وائرس مدغاسکر، صومالیہ اور کینیا جیسے ممالک میں پھیل رہا ہے، اور اس نے جنوب مشرقی ایشیا، بشمول بھارت میں بھی وبائی نوعیت اختیار کر لی ہے۔
یورپ کے اندر درآمد شدہ کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور حالیہ مقامی منتقلی خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔
روجاس الواریز کے مطابق، یکم مئی سے اب تک فرانس میں تقریبا800 چکن گنیا کے درآمد شدہ کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔
فرانس کے کئی جنوبی علاقوں میں مقامی سطح پر منتقلی کے 12 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، یعنی افراد کو مقامی مچھروں نے متاثر کیا ہے، نہ کہ وہ کسی وبائی علاقے سے سفر کر کے آئے ہوں۔ گزشتہ ہفتے اٹلی میں بھی ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔
چکن گنیا ایک ایسا وائرس ہے، جس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، اور یہ بنیادی طور پر ایڈیز نسل کے مچھروں سے پھیلتا ہے، جن میں ‘ٹائیگر مچھر’ بھی شامل ہے۔ یہی مچھر ڈینگی اور زیکا وائرس بھی پھیلاتا ہے۔
چونکہ یہ مچھر دن کے وقت کاٹتے ہیں، اس لیے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے، مثلا مچھر بھگانے والی دوا کا استعمال، مکمل آستین والے کپڑے پہننا، اور گھروں میں جالی دار دروازے یا مچھر دانیاں استعمال کرنا۔