آج کا معاشرہ انتہائی بے مروت ، بے رحم اور مستغنی ہے ۔ آج سے ایک دو صدی قبل معاشرہ ہر اُس شخص کو انتہائی خوشی کے ساتھ قبول کرتا تھا۔ جسے کسی فن یا علم میں تھوڑی سی مہارت حاصل ہوتی تھی۔ لوگ اسے اپنا رہنما اور آئیڈیل بھی سمجھتے تھے۔ اور اس کے ساتھ ان کے فلاحی ، دینی ، ملی اور علمی کارناموں کو بھی سراہتے تھے۔لیکن اس صدی میں جس برق رفتاری کے ساتھ زمانے کا دامن پھیلتا اور سمٹتا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی معاشرے کے چیلنجز اور تقاضے بھی بڑھتے جا رہے ہیں ۔ آج کا “جدید معاشرہ” ہر اُس شخص کو قبول کرتا ہے۔ جو کسی علم اور فن میں کمال مہارت رکھتا ہو، ِاسے اس فن پر مکمل دسترس حاصل ہو اور اس کے ساتھ ان کے تمام لوازمات اور متعلقات سے خوب واقف ہو، صرف شُد بُد سے کام نہیں چلتا—! کہ آپ جناب مآب کو کئی سطروں پر مشتمل شائستہ اور سیل رواں تحریر اور پُرجوش تقریر پر دسترس حاصل ہو۔ بلکہ آج کا معاشرہ پہلے سے کئی زیادہ محنت کا مقتضی ہے۔
اسلامی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات روز رشن کی طرح واضح ہوتی ہے۔ کہ دنیا میں ہر چیز کی اہمیت اور وقعت اپنے زمانے کے حساب سے ہوا کرتی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں سحر ، عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ِطب ، اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں شعر و شاعری کا بڑا چرچا اور اہمیت تھی ۔
اللّٰہ رب العزت نے ہر نبی کو وہی چیز (معجزہ ) عطا فرمائی، جس کا اُس معاشرے اور زمانے میں ہر کسی کی زبان پر چرچا تھا۔ بالکل اسی طرح آج کل جسے “Modern Aria” کہا جاتا ہے۔ سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ زمانہ بہت ہی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اور نئی نئی چیزوں ، علوم اور فنون کا مقتضی ہے۔ تو ہمیں چاہیے کہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کریں۔ جو کہ اس وقت معاشرے کی اشد ضرورت ہے ۔ اپنے مطالعے میں وسعت پیدا کریں۔ کیوں کہ مطالعے اور تحقیق کا میدان بہت وسیع ہے۔ صرف چند کتابوں ، اخبارات اور رسائل پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ ہماری ہر بات ، تحریر اور تقریر دلائل سے مزین ہوں تب جا کر دنیا نہ صرف قبول کرے گی ۔ بلکہ عالمی سطح پر کام کرنے کے مواقع بھی فراہم کرے گی ۔ آج کل پہلے سے کئی زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ ہر آئے دن اسلام اور اہل اسلام کو نئے چیلنجرز اور فتنوں کا سامنا ہوتا ہے ۔
کبھی تو الحاد ، کیمونزم ، سوشلزم اور کبھی سیرت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطالق بے بنیاد اور بے جا قسم کے سوالات اور اعتراضات کیے جاتے ہیں: کہ آیا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک تھا ؟
آپ نے اپنی تریسٹھ سالہ زندگی میں کبھی بحری سفر فرمائی ؟
آپ نے گیارہ ازواجِ مطہرات کے ساتھ شادی کیوں کی حالانکہ اسلام میں تو صرف چار کی اجازت ہے۔۔۔؟ تو ان تمام تر سوالات کا تسلی بخش جواب دینا اور کامیاب معاشرے کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرنا ہم میں سے ہر ایک کی ذمہ داری ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہر سال ہمارے تعلیمی اداروں(دینی مدارس) سے تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے۔ لیکن رجال کار اور ایسے باصلاحیت عالم دین جو معاشرے کی دینی ، روحانی ، اخلاقی اور فلاحی اصلاح کر سکیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے مزاج کو جان کر ان کی پیاس کو بجھا سکیں۔ ان کی تعداد نقار خانے میں طوطے کی آواز کی طرح ہے !
آج بھی ہمارے پاس وقت جیسا قیمتی سرمایہ موجود ہے۔ اپنے مافات کی تلافی کر سکتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک (نبی اور صحابی کے علاوہ ) امام ابو حنیفہ ، ابن سینا ، ابن تیمیہ ، ابن الجوزی حسین احمد مدنی اور انور شاہ کشمیری بن سکتا ہے۔ جنہوں نے انتہائی کم عرصے میں نہ صرف امت کی پیاس کو بجھایا، بلکہ کئی صدیوں کے گزرنے کے باوجود آج بھی ہر ایک کی زبان پر ان کا ذکر خیر موجود ہے ۔
آئیں ! آج سے عہد مصمم کریں۔ کہ ہم سے ہر ایک اپنے اوقات کو قیمتی ،نیک صحبت ، اساتذہ کے ساتھ تعلق ، کتابوں کو دوست اور محنت کو اپنا شعار بنائیں ۔ ورنہ فراغت کے بعد کف افسوس ملتے رہیں گے اور ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آئے گا ۔۔۔!