پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور میں گزشتہ نومبر ایک خاتون کے گھر پر چھاپے اور اس کے بعد پانچ افراد کی ہلاکت کے واقعے نے پنجاب میں پولیس مقابلوں سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ صوبے کا کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ایک منظم پالیسی کے تحت ماورائے عدالت ہلاکتوں میں ملوث ہے۔
زُبیدہ بی بی کے مطابق مسلح اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر موبائل فون، نقدی، سونا اور بیٹی کا جہیز تک لے لیا اور ان کے بیٹوں کو بھی اٹھا کرلے گئے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں کے اندر ان کے تین بیٹے، عمران، عرفان اور عدنان، اور دو داماد پنجاب کے مختلف اضلاع میں مبینہ پولیس مقابلوں میں مارے گئے۔
زُبیدہ بی بی نے انسانی حقوق کمیشن کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹوں کی رہائی کے لیے لاہور تک گئیں مگر اگلی صبح انہیں اطلاع ملی کہ پانچوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ جب انہوں نے عدالت میں درخواست دائر کی تو پولیس نے باقی اہلِ خانہ کو بھی مارنے کی دھمکی دی۔ ان کے شوہر عبدالجبار کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹوں کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور وہ محنت کش افراد تھے۔
17 فروری کو جاری کی گئی رپورٹ میں انسانی حقوق کمیشن نے انکشاف کیا کہ اپریل 2025 سے دسمبر 2025 کے درمیان کم از کم 670 پولیس مقابلے ہوئے جن میں 924 مشتبہ افراد مارے گئے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ گزشتہ سال اپریل میں سنگین اور منظم جرائم کے خلاف کارروائی کے لیے قائم کیا گیا تھا، تاہم کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ ایک متوازی پولیس فورس کے طور پر کام کر رہا ہے جسے عملی طور پر مکمل آزادی حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان مقابلوں میں سب سے زیادہ واقعات لاہور، فیصل آباد اور شیخوپورہ میں پیش آئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سب سے بڑی تعداد ڈکیتی کے ملزمان کی تھی، جبکہ منشیات، قتل اور دیگر جرائم میں ملوث افراد بھی مارےگئے۔
کمیشن نے پولیس کی جانب سے درج کی جانے والی ایف آئی آرز کا جائزہ لے کر بتایا کہ اکثر واقعات کی تفصیلات ایک جیسی زبان میں لکھی گئیں، جس سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ بیانات کو نقل کر کے تیار کیا گیا۔ عموما یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ مشتبہ افراد نے پہلے فائرنگ کی اور پولیس نے جوابی کارروائی میں انہیں مارا، جبکہ ساتھی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، انسانی حقوق کمیشن کی ڈائریکٹر فرح ضیا کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پولیس مقابلوں کی روایت 1960 کی دہائی میں شروع ہوئی اور بعد میں دیگر صوبوں تک پھیل گئی۔ ان کے مطابق جرائم پر قابو پانے کے لیے بہتر تفتیش، جدید فرانزک نظام اور مؤثر عدالتی کارروائی کے بجائے ایسے غیر قانونی طریقے اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں۔
پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی حکومت نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو “سیف پنجاب” وژن کا حصہ قرار دیا ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس یونٹ کی کارروائیوں سے جائیداد سے متعلق جرائم میں 60 فیصد سے زائد کمی آئی ہے اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ محکمہ نے انسانی حقوق کمیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کے پاس ماورائے عدالت قتل کے شواہد موجود نہیں۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر جرائم میں کمی آئی بھی ہو تو طریقۂ کار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض خاندانوں کو لاشیں فوری دفن کرنے کا کہا گیا تاکہ آزادانہ پوسٹ مارٹم نہ ہو سکے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے پنجاب پولیس سے مقابلوں کے طریقہ کار سے متعلق معلومات طلب کیں مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں ملک بھر میں تقریباً پانچ ہزار پولیس مقابلے رپورٹ ہوئے، جن میں سے تقریباً دو ہزار صرف پنجاب میں ہوئے۔ سنہ 2024 میں پنجاب میں مقابلوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی، جو پچھلے برس کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ تھی۔