ازبکستان، پاکستان اور افغانستان کے ٹرانسپورٹ حکام نے ایک آن لائن اجلاس میں شرکت کی جس میں تین ملکی “ازبکستان-افغانستان-پاکستان کارگو راہداری” کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اجلاس کا مقصد اس راہداری کے ذریعے سامان کی ترسیل کو آسان بنانا اور موجودہ رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔
اجلاس ازبک صدر کے 27 جنوری 2025 کے صدارتی حکم کے تحت منعقد ہوا، جس میں ملک کے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک نظام کی مزید ترقی کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
مذاکرات کے دوران تینوں ممالک کے نمائندوں نے ایک مجوزہ مشترکہ ایکشن پلان پر غور کیا۔ اس منصوبے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں عملی اقدامات، سہولیات میں بہتری اور سرحدی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے تجاویز شامل ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس منصوبے کو حتمی شکل دینے اور دستخط سے قبل اندرونی قانونی تقاضے مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔
یہ پیش رفت خطے میں تجارتی روابط مضبوط بنانے اور معاشی تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یاد رہے کہ فروری 2021 میں ازبکستان، افغانستان اور پاکستان نے مشترکہ طور پر “ترمز-مزارشریف-کابل-پشاور” ریلوے منصوبے کے لیے ایک روڈ میپ پر دستخط کیے تھے۔ اس منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 5 ارب ڈالر رکھی گئی ہے، اور اس کے ذریعے سالانہ 2 کروڑ ٹن تک سامان کی ترسیل متوقع ہے۔
یہ ریلوے راہداری یورپ، روس، وسطی ایشیا، افغانستان، پاکستان، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اسے ایک اسٹریٹجک اور اقتصادی لحاظ سے اہم منصوبہ بناتی ہے۔