چین کی ٹیکنالوجی کمپنی بائٹ ڈانس نے اپنے نئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ویڈیو جنریٹر سے متعلق اٹھنے والے خدشات دور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ہالی وڈ کی تنظیموں کا الزام ہے کہ کمپنی کا ٹول ‘سی ڈانس 2.0’ کاپی رائٹ کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اداکاروں کی شکل و صورت اور آواز بغیر اجازت استعمال کر رہا ہے۔
یہ ٹول فی الحال صرف چین میں دستیاب ہے اور صارفین کو سادہ تحریری ہدایات کے ذریعے معیاری اے آئی ویڈیوز بنانے کی سہولت دیتا ہے۔
ہالی وڈ کی نمائندہ تنظیم موشن پکچرز ایسوسی ایشن نے گزشتہ ہفتے بیان میں کہا کہ سی ڈانس 2.0 نے امریکی کاپی رائٹ شدہ مواد کو بڑے پیمانے پر بغیر اجازت استعمال کیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ چارلس رِوکن کے مطابق، بائٹ ڈانس کو فوری طور پر اس مبینہ خلاف ورزی کو روکنا چاہیے۔
اداکاروں کی یونین SAG-AFTRA نے بھی اس ٹول کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ان کے اراکین کی آواز اور چہروں کا غیر مجاز استعمال شامل ہے، جو ناقابل قبول ہے اور فنکاروں کے روزگار کو متاثر کرتا ہے۔
یہ تنازع اس وقت بڑھا جب ایک وائرل ویڈیو میں اے آئی کے ذریعے ٹام کروازاوربریڈ پِٹ جیسے اداکاروں کی فرضی جھلکیاں دکھائی گئیں۔ فلمی صنعت سے وابستہ افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے ٹولز مستقبل میں مکمل اے آئی سے تیار کردہ فلموں کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔
بائٹ ڈانس نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ دانشورانہ املاک کے حقوق کا احترام کرتی ہے اور غیر مجاز استعمال روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق جب تک عدالتیں اس معاملے پر واضح فیصلہ نہیں دیتیں، اے آئی سے تیار ہونے والی ویڈیوز فلمی صنعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی رہیں گی، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس کے قانونی و اخلاقی پہلو ابھی پوری طرح واضح نہیں۔