28 فروری 2026 کی وہ رات تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں لکھی جائے گی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے آپریشن پیس میکر(Operation Peacemaker) کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر بھرپور حملے کا حکم دیا۔ ٹرمپ، جو ہمیشہ سے امریکہ فرسٹ اور ایران کے حوالے سے سخت گیر مؤقف کے حامی رہے ہیں، نے اس بار محض پابندیوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر تہران کے قلب پر کاری ضرب لگانے کا فیصلہ کیا۔ ٹرمپ کا یہ اعلان کہ ”ہم مشرقِ وسطیٰ کو ہمیشہ کے لیے دہشت گردی سے پاک کرنے جا رہے ہیں“، بظاہر ایک عزم تھا مگر عملی طور پر اس نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔دنیا اس وقت جس جنگی ماحول سے گزر رہی ہے، وہ محض بمباری اور میزائل حملوں تک محدود نہیں بلکہ یہ اعداد و شمار، معاشی دباؤ اور اسٹریٹجک توازن کی ایک پیچیدہ جنگ ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بالواسطہ تصادم اب چودہ ممالک تک پھیل چکا ہے، جس میں یمن، لبنان، شام، عراق اور بحیرہء احمر کے ساحلی خطے شامل ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ جنگ کہاں جا کر رکے گی؟جنگ کے پانچویں دن صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ایران کی بڑی لیڈر شپ کی شہادت ہو چکی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف ایران بلکہ دنیا بھر کی شیعہ کمیونٹی کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر متحد کر دیا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، کیونکہ ایرانی عوام، شیعہ کمیونٹی اور ایرانی حکومت کے نزدیک وہ دور حاضر کے دجال کے خلاف جنگ میں ہیں جو ایک عظیم مقصد ہے۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے ”سخت انتقام“ کا نعرہ بلند کیا ہے، اور عراق سے لے کر یمن تک، لبنان سے لے کر شام تک پھیلی ہوئی محورِ مزاحمت (Axis of Resistance) اب ایک منظم اکائی بن کر سامنے آئی ہے۔
صدر ٹرمپ، جو خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی عوام اور فوجی قیادت کو مخاطب کر کے رجیم چینج (Regime Change) کی دعوت دے رہے تھے، شاید ایرانی قوم کے نفسیاتی ڈھانچے کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ تہران کی سڑکوں پر جاری احتجاج اب حکومت کے خلاف نہیں بلکہ بیرونی جارحیت کے خلاف ایک سیلاب بن چکا ہے۔ ٹرمپ کا سوال کہ ”کیا آپ اب بھی اس قیادت کا ساتھ دیں گے؟“ کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل پر میزائلوں کی وہ بارش کی ہے جس نے عالمی دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔عالمی ماہرین دفاع سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ نے بغیر پلاننگ کے صرف اتنا ہی سوچا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور اس کی اعلیٰ کابینہ کو ختم کر کے ایران میں اپنی کٹھ پتلی حکومت بٹھا لے گا، مگر اس شدت کا جواب اسے حیران کر گیا ہے۔ حال ہی میں اس نے عالمی دفاعی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ میٹنگ کر کے انہیں ہتھیاروں کی پروڈکشن تیز کرنے کے لیے کہا ہے۔ عالمی عسکری اداروں (جیسے IISS) کی رپورٹ کے مطابق، پانچ دن کی مسلسل بمباری کے بعد اسرائیل کے پاس اپنے دفاعی نظام آئرن ڈوم اور ایرو کے لیے انٹرسیپٹرز (Interceptors) کی شدید کمی ہو رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ اسرائیل کے پاس اب محض 20 سے 25 فیصد دفاعی صلاحیت باقی ہے، جبکہ ایران کے پاس اب بھی 3,000 سے زائد طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو کسی بھی وقت تل ابیب کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے راکٹوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب بتائی جا رہی ہے۔دوسری طرف امریکہ مشرق وسطیٰ میں پینتالیس ہزار سے زائد فوجی تعینات کیے ہوئے ہے اور اسرائیل کے دفاعی نظام پر روزانہ کروڑوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ یہ توازن وہ ہے جہاں کوئی ایک فریق فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کر پا رہا۔ امریکہ اور اسرائیل کے لیے سب سے ہولناک خبر انٹیلی جنس حلقوں سے یہ آ رہی ہے کہ ایران نے زیرِ زمین تنصیبات میں کامیاب جوہری تجربہ کر لیا ہے۔ عالمی ایٹمی ہتھیاروں کی ایجنسی جو تمام جوہری ہتھیاروں کے منصوبوں پر نگرانی کرتی ہے نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے، جو اس جنگ کے نتائج کو یکسر بدل کر رکھ دے گی۔
جنگ کے معاشی اثرات نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور یمنی حوثیوں اور حزب اللہ کی جانب سے باب المندیب اسٹریٹ کے راستے بند کرنے کے بعد عالمی تجارت مفلوج ہو چکی ہے۔آبنائے ہرمز سے دنیا کا تقریباََ بیس فیصد تیل اور ایل این جی گزرتا ہے۔ ذرا سی بندش یا کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عراق میں تیل کی پیدا وار میں پندرہ لاکھ فی بیرل یومیہ کمی رپورٹ ہو چکی ہے، جبکہ خطے کے عدم استحکام کے باعث تیل کی قیمتوں میں پندرہ سے پچیس فیصد تک بڑھوتری دیکھنے میں آئی ہے۔قطر نے بھی ایل این جی کی پیداوار میں بیس فیصد تک یومیہ کمی کر دی ہے۔ اسی لیے ماہرین اس جنگ کو محض فوجی محاذ نہیں بلکہ عالمی معاشی محاذ کا نام دے رہے ہیں۔خام تیل کی قیمتیں 180 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔عالمی سپلائی چین ٹوٹنے سے یورپ اور امریکہ میں اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بندش مزید ایک ہفتہ برقرار رہی تو دنیا 1930 کے گریٹ ڈپریشن سے بھی بڑے معاشی بحران میں ڈوب جائے گی۔
عالمی عسکری و دفاعی ادارے اس وقت شدید تشویش کا شکار ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ اسٹرٹیجک غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔ روس اور چین کی خاموش مگر مؤثر مداخلت نے امریکہ کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں واپسی کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں۔بظاہر یہ خاموشی لاتعلقی لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہی خاموشی عالمی جنگ کے پھیلاؤ کے خلاف سب سے مضبوط رکاوٹ ہے۔ چین اپنی ستر فیصد توانائی در آمدات مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے، اس لیے وہ کسی بھی ایسے تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا جو آبنائے ہرمز کو بند کر دے۔ روس جو پہلے ہی یوکرین جنگ میں الجھا ہے، کسی دوسرے محاذ کو کھولنے سے گریزاں ہے۔ یہی دو عوامل عالمی جنگ کے امکانات کو پندرہ فیصد کے آس پاس محدود رکھتے ہیں۔اس تناظر میں پاکستان کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان نے نہ کسی عسکری بلاک میں شمولیت اختیار کی، نہ جنگی بیانیے کا حصہ بنا۔ ایران سے ہمسائیگی، خلیجی ممالک سے تعلقات اور چین کے ساتھ اسڑیٹجک شراکت، یہ سب پاکستان کو ایک متوازن سفارتی پل بناتے ہیں، نہ کسی محاذ کا ایندھن۔
آج دنیا ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ ٹرمپ کے فیصلے، ایران کی مزاحمت، اور اسرائیل کی دفاعی مجبوریوں نے ایک ایسا تکون بنا دیا ہے جس کا انجام یا تو تہران کی مکمل تباہی ہے یا پھر امریکی بالادستی کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہونا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس جنگ میں اب کوئی فاتح نہیں ہوگا، بلکہ صرف ہارے ہوئے لوگ اور جلی ہوئی بستیاں ہی تاریخ کا حصہ بنیں گی۔