دنیا بھر میں خواتین کی صحت کو متاثر کرنے والی بیماریوں میں بریسٹ کینسر سب سے سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس مرض کی ابتدائی مرحلے پر تشخیص ہو جائے تو علاج کامیاب ثابت ہوتا ہے اور مریضہ ایک نارمل زندگی گزار سکتی ہے۔
بریسٹ کینسر دنیا بھر میں تیزی سے بڑھنے والا ایک ایسا مرض ہے جو لاکھوں خواتین کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ بیماری نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی خواتین کو کمزور کر دیتی ہے۔ زیادہ تر مریضہ اس وقت علاج کے لیے رجوع کرتی ہیں جب مرض کافی بڑھ چکا ہوتا ہے، جس کے بعد علاج مشکل ہو جاتا ہے۔
تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ ہر نو میں سے ایک خاتون کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اس بیماری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آگاہی اور بروقت چیک اپ ہی اس مرض سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہیں۔
بریسٹ کینسر کی وجوہات مکمل طور پر واضح نہیں ہیں لیکن جینیاتی پس منظر، بڑھتی عمر، موٹاپا، غیر متوازن غذا، ورزش کی کمی اور تمباکو نوشی اس کے امکانات کو بڑھا دیتے ہیں۔ ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ہارمونز پر مشتمل دواؤں کا بے جا استعمال اور دیر سے ماں بننا بھی خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
اکثر خواتین ابتدائی علامات کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں، جیسے چھاتی میں گلٹی محسوس ہونا، سائز میں تبدیلی، درد یا غیر معمولی رطوبت کا اخراج۔ یہ علامات فوری توجہ کی متقاضی ہیں اور ایسی کسی بھی تبدیلی پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
بیماری کی بروقت تشخیص کے بعد سرجری، ریڈیو تھراپی اور کیموتھراپی جیسے علاج مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم علاج صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی اور نفسیاتی پہلو بھی رکھتا ہے۔ مریضہ کے لیے خاندان اور دوستوں کی حوصلہ افزائی اس مشکل وقت میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور تمباکو نوشی سے پرہیز بریسٹ کینسر کے امکانات کو کم کر سکتا ہے۔ ہر خاتون کو چاہیے کہ اپنے جسم کا باقاعدگی سے خود معائنہ کرے اور وقتاً فوقتاً طبی چیک اپ کروائے تاکہ کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کو بروقت پہچانا جا سکے۔
بریسٹ کینسر ایک سنجیدہ لیکن قابلِ علاج بیماری ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ خواتین اپنی صحت کو اہمیت دیں، آگاہی کو عام کریں اور بروقت علاج کے ذریعے ایک بہتر اور محفوظ زندگی کو یقینی بنائیں۔