عالمی استعماری استبدادی طاغوتی طاقتیں غزہ کے گرد جو سفارتی چالیں چلا رہی ہیں، انہیں محض “پیس بورڈ” کہنا خود ایک المیہ ہے، کیونکہ جب امن کے نام پر بارود کی بو آئے تو سمجھ لینا چاہیے کہ نقشہ کسی اور نے بنایا ہے اور مہرے کسی اور کے ہاتھ میں ہیں۔ غزہ آج بھی محاصرے، بمباری اور بھوک کی سیاست کا شکار ہے، اور دوسری طرف عالمی طاقتیں “امن منصوبہ” کے عنوان سے ایسے خاکے پیش کرتی ہیں جن میں انصاف کا لفظ تو ہوتا ہے مگر انصاف خود غائب ہوتا ہے۔
امریکا کی خارجہ پالیسی مشرقِ وسطیٰ میں ہمیشہ مفادات کے ترازو پر تولی گئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا جمہوریت کے نام پر مداخلت، ہر بیانیے کے پیچھے جغرافیائی بالادستی اور اسلحہ منڈیوں کی چمک دکھائی دیتی ہے۔ اسرائیل کو دی جانے والی عسکری، مالی اور سفارتی پشت پناہی کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں۔ اقوامِ متحدہ میں ویٹو پاور کا استعمال ہو یا اربوں ڈالر کی امداد، یہ سب اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ رکھا جائے۔
اس “پیس بورڈ” کی اصل ساخت کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اس کے اجزاء دیکھیں۔ پہلی اینٹ سیکیورٹی کے نام پر مکمل کنٹرول، دوسری اینٹ مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینے کا بیانیہ، اور تیسری اینٹ عرب و مسلم حکمرانوں کی خاموشی یا مفاہمت۔ کچھ مسلم ریاستیں کھلے عام سفارتی تعلقات کو “نئی شروعات” کہتی ہیں، جبکہ فلسطینی ماں کی گود میں دم توڑتا بچہ ان شروعات کی قیمت بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعلقات واقعی امن لائیں گے یا صرف طاقت کے عدم توازن کو مستقل کریں گے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقتور نے امن کی شرائط لکھیں، کمزور کے حصے میں صرف تسلیم کرنا آیا۔ کیمپ ڈیوڈ سے لے کر حالیہ ابراہیمی معاہدوں تک، ہر مرحلے پر فلسطینی عوام کو بنیادی حقِ خودارادیت سے دور رکھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وقتی خاموشی تو ملی مگر پائیدار امن نہ بن سکا، کیونکہ امن انصاف کے بغیر محض وقفہ ہوتا ہے، حل نہیں۔ مسلم حکمرانوں کا کردار اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ سوالیہ ہے۔امت کے جذبات ایک طرف، اور ریاستی مفادات دوسری طرف، کچھ حکومتیں معاشی دباؤ، قرضوں اور عالمی تنہائی کے خوف سے طاقتور بلاک کے قریب ہوئیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا وقتی معاشی ریلیف کے بدلے ایک تاریخی مسئلے پر اخلاقی موقف قربان کرنا دانشمندی ہے۔
عوامی سطح پر فلسطین کیلئے ہمدردی آج بھی زندہ ہے، مگر پالیسی کی میز پر یہ ہمدردی اکثر سرد پڑ جاتی ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ خطہ صرف جذبات سے نہیں چلتا، عالمی سیاست مفادات کی شطرنج ہے، مگر کیا مسلم دنیا مشترکہ سفارتی حکمت عملی نہیں بنا سکتی۔ کیا اقتصادی بلاک، توانائی کی طاقت، اور آبادی کی قوت کو استعمال کرکے کم از کم جنگ بندی، انسانی راہداری اور مستقل مذاکرات پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔ اگر یورپی یونین مشترکہ مفاد پر متحد ہوسکتی ہے تو او آئی سی کیوں محض بیانات تک محدود رہے۔ اسرائیلی سیکیورٹی خدشات اپنی جگہ، مگر اجتماعی سزا اور محاصرہ کسی بھی بین الاقوامی قانون کی روح کے خلاف ہے۔ دوسری جانب فلسطینی دھڑوں کی باہمی تقسیم نے بھی کاز کو نقصان پہنچایا۔ داخلی اتحاد کے بغیر بیرونی دباؤ مؤثر نہیں ہوتا، لہٰذا اصلاح کا آغاز اندر سے بھی ضروری ہے۔
اصل سوال یہی ہے کہ کیا “پیس بورڈ” واقعی امن کا نقشہ ہے یا طاقت کے کھیل کا نیا نام۔ اگر یہ منصوبہ فلسطینیوں کو باوقار ریاست، خودمختاری اور محفوظ مستقبل نہیں دیتا تو یہ محض سیاسی پیکجنگ ہے، اور اگر مسلم حکمران اس پیکجنگ کا حصہ بنتے ہیں تو تاریخ انہیں خاموش تماشائی نہیں بلکہ شریکِ کار لکھے گی۔ غزہ کی گلیوں میں آج بھی ملبے کے نیچے دبے خواب سوال کر رہے ہیں۔ امن صرف تب آئے گا جب انصاف کو مرکز بنایا جائے، جب مذاکرات برابری کی سطح پر ہوں، اور جب عالمی طاقتیں ایک فریق کی غیر مشروط حمایت کے بجائے حقیقی ثالثی کا کردار ادا کریں، ورنہ “پیس بورڈ” کے لفظی غبار میں حقیقت کا خون چھپایا جاتا رہے گا، اور آنے والی نسلیں پوچھتی رہیں گی کہ جب فیصلہ لکھا جا رہا تھا تو یہ نام نہاد مسلم حکمران کہاں تھے۔