بنگلہ دیش پارلیمانی انتخابات، طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی بھاری اکثریت سے کامیاب

بنگلہ دیش میں ہونے والے اہم پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق جماعت کے سربراہ طارق رحمان وزیرِاعظم بننے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ابتدائی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے کم از کم 212 نشستیں حاصل کیں، جبکہ جماعتِ اسلامی اور اس کے اتحادیوں کو 77 نشستیں ملیں۔ تاہم اب تک حتمی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔

نوجوان کارکنوں کی قیادت میں قائم نیشنل سٹیزن پارٹی، جس نے 2024 کی عوامی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا، 30 میں سے صرف 6 نشستیں جیت سکی۔ مبصرین کے مطابق یہ نتیجہ احتجاجی تحریک کو انتخابی کامیابی میں بدلنے کی مشکلات کو ظاہر کرتا ہے۔

ملک کے عبوری سربراہ محمد یونس نے بی این پی کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی قیادت ملک کو استحکام، شمولیت اور ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ 85 سالہ نوبیل انعام یافتہ یونس اگست 2024 کی عوامی تحریک کے بعد عبوری حکومت کی سربراہی کر رہے تھے اور اب اقتدار منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

جماعتِ اسلامی نے بھی مجموعی نتائج کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، اگرچہ اس نے ووٹوں کی گنتی کے عمل پر کچھ تحفظات ظاہر کیے تھے۔ جماعت کے سربراہ شفیق الرحمٰن نے کہا کہ وہ قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں۔

طارق رحمان نے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم وہ انتخاب سے قبل اپنی کامیابی کے حوالے سے پُرامید تھے۔ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق بی این پی آج سہ پہر تین بجے پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے باضابطہ ردعمل کا اعلان کرے گی۔

طارق رحمان کون ہے؟

قومی پارلیمانی انتخابات کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق ان کی جماعت نے 209 نشستیں حاصل کی ہیں، جس کے بعد وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔

طارق رحمان بنگلہ دیش کے سابق فوجی صدر ضیاء الرحمٰن اور سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ ایک بااثر سیاسی خاندان میں آنکھ کھولنے کے باعث وہ بچپن ہی سے سیاسی ماحول سے آشنا رہے۔ پارٹی کے مطابق انہوں نے ابتدائی تعلیم ڈھاکہ میں حاصل کی اور بعد ازاں جامعہ ڈھاکہ کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات میں داخلہ لیا، تاہم ان کی تعلیم کی تکمیل کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ حالیہ انتخابی گوشواروں میں ان کی تعلیمی قابلیت “اعلیٰ ثانوی” درج ہے۔

انہوں نے 1980 کی دہائی کے اواخر میں عملی سیاست کا آغاز کیا اور ضلعی سطح پر جماعتی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ 1991 کے عام انتخابات کے بعد پارٹی کے اندر ان کا کردار نمایاں ہونا شروع ہوا، جبکہ 2001 کے انتخابات میں بی این پی کی قیادت میں اتحاد کی بھاری کامیابی کے بعد ان کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا۔

بی این پی کے دورِ حکومت میں طارق رحمان اور ان کے قریبی ساتھیوں پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے۔ 2004 میں اُس وقت کی اپوزیشن رہنما شیخ حسینہ کے جلسے پر ہونے والے دستی بم حملے کے مقدمے میں بھی ان کا نام شامل کیا گیا اور بعد ازاں انہیں سزا سنائی گئی۔ تاہم بی این پی نے ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیا۔ بعد کی سیاسی تبدیلیوں کے بعد وہ ان مقدمات سے بری ہو گئے۔

2007 میں فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے قیام کے بعد انہیں بدعنوانی کے الزامات پر گرفتار کیا گیا اور وہ تقریباً 18 ماہ قید میں رہے۔ رہائی کے بعد وہ علاج کی غرض سے بیرونِ ملک چلے گئے اور قریباً سترہ برس لندن میں مقیم رہے۔ بعد ازاں انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ بھی حاصل کی۔

2018 میں خالدہ ضیا کی گرفتاری کے بعد انہوں نے بیرونِ ملک سے ہی جماعت کی قیادت سنبھالی اور قائم مقام چیئرمین کی حیثیت سے پارٹی معاملات چلاتے رہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں وہ طویل جلاوطنی کے بعد ڈھاکہ واپس آئے۔ اپنی والدہ کی وفات کے بعد انہیں باضابطہ طور پر بی این پی کا چیئرمین مقرر کیا گیا اور انہوں نے ملک گیر انتخابی مہم کی قیادت کی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق طویل جلاوطنی، مقدمات اور تنازعات کے باوجود طارق رحمان نے جماعتی ڈھانچے کو برقرار رکھا۔ اب اگر انہیں اقتدار ملتا ہے تو اصل امتحان اس بات کا ہوگا کہ آیا وہ قومی سطح پر مفاہمت اور استحکام کی سیاست کو فروغ دے پاتے ہیں یا نہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں