پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان کا بنیادی مقصد دوطرفہ تجارت کو نمایاں طور پر بڑھاتے ہوئے، ابتدائی طور پر ایک ارب ڈالر تک لے جانا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 2019 میں یہ حجم 12 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا، جو 2024 کے اختتام تک 40 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرجانے کی توقع ہے۔
دوطرفہ تجارت کو مضبوط کرنے کے اقدامات
سفیر نے کہا کہ تجارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تجارتی رکاوٹوں کو ختم کر کے سامان کی نقل و حرکت کو تیز کیا جائے۔ ٹرانزٹ ٹریڈ اور ترجیحی تجارتی معاہدوں کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے۔ تعاون کو فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک میں باقاعدگی سے تجارتی تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ ترجیحی تجارتی معاہدے میں 17 اشیاء شامل ہیں، تاہم اس فہرست کو 100 سے زائد اشیاء تک بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
اہم شعبے اور تعاون
ازبک سفیر نے زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، توانائی اور آٹوموٹیو صنعت کو اہم شعبے قرار دیا، جن میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی زرعی، ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات ازبک مارکیٹ میں بے حد مقبول ہیں، جبکہ ازبک صنعتی مصنوعات، پھل اور سبزیاں پاکستان میں بڑی طلب رکھتی ہیں۔
خطے میں ازبکستان اور پاکستان کے اسٹریٹجک کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی ٹرانزٹ اور لاجسٹک صلاحیتیں خطے میں تجارتی روابط کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی اور وسطی و جنوبی ایشیا کے درمیان اقتصادی انضمام کو فروغ دیں گی۔
مستقبل کے روشن امکانات
ازبک سفیر نے دونوں حکومتوں اور نجی شعبے کی شرکت کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کا مستقبل روشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2024 میں تاشقند میں منعقد ہونے والی میڈ اِن پاکستان نمائش کے دوران کئی تجارتی معاہدے طے پائے اور 2025 میں پاکستان میں میڈ اِن ازبکستان نمائش کے انعقاد کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
سفیر نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سیاسی عزم اور مسلسل تعاون سے ایک ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت کا ہدف جلد حاصل کیا جائے گا۔