بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مالدیپ کے دورے کے دوران 565 ملین ڈالر کا قرضہ فراہم کرنے کا اعلان کیا اور دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (Free Trade Agreement) پر بات چیت کا آغاز بھی کیا ہے۔
مودی کے دورے کا مقصد مالدیپ کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری کو فروغ دینا ہے، جہاں بھارت اور چین کے درمیان اثر و رسوخ کی مسابقت جاری ہے۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ، یہ قرضہ مالدیپ کے عوام کی ترجیحات کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ، دونوں ممالک جلد ایک دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کو بھی حتمی شکل دیں گے۔
یہ مودی کا مالدیپ کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ، بھارت مالدیپ کے لیے ہمیشہ ‘پہلا مددگار(first responder)’ رہے گا، جس کی آبادی تقریبا 5 لاکھ 25 ہزار ہے۔
مودی نے دفاعی شعبے میں تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ،بھارت مالدیپ کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں تعاون جاری رکھے گا۔ بحر ہند کے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔
مالدیپ کےصدر معیظو نے کہا کہ، بھارت سے ملنے والا قرض مالدیپ کی سیکیورٹی فورسز کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ صحت، رہائش اور تعلیم کے شعبوں میں بھی استعمال کیا جائے گا۔
انہوں نےمزید کہاکہ،بھارت کی جانب سے ضروری اشیاء کی برآمدات کے ذریعے مدد ہماری دوطرفہ شراکت داری کا اہم ستون ہے۔