شام میں اسد خاندان کی 53 سالہ حکمرانی کا اختتام اس وقت ہوا جب اپوزیشن فورسز نے ایک منظم کارروائی کے بعد دارالحکومت دمشق پر قبضہ کر لیا۔ یہ تاریخی واقعہ 27 نومبر کو شروع ہونے والی ایک 11 روزہ جنگ کے بعد پیش آیا، جس میں اپوزیشن نے حلب، حمص، اور دیگر اہم شہروں پر قبضہ کرتے ہوئے بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔
دمشق کی آزادی اور بشار الاسد کا فرار
اتوار کی صبح اپوزیشن فورسز نے دمشق میں داخل ہو کر شام کو “اسد حکومت سے آزاد” قرار دیا۔ افواہوں کے مطابق بشار الاسد کے فرار کے دوران ایک طیارہ حادثہ پیش آیا، لیکن بعد میں یہ تصدیق ہوئی کہ وہ اپنے خاندان سمیت روس پہنچ گئے، جہاں انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سیاسی پناہ دی گئی ہے۔
یہ سب کیسے شروع ہوا؟
اپوزیشن کی کارروائی کا آغاز ادلب اور حلب کے محاذ پر ہوا، جس کی قیادت ‘حیات التحریر الشام’ کے سربراہ ابو محمد الجولانی کر رہے تھے۔ صرف تین دن کے اندر اپوزیشن فورسز نے حلب اور دیگر اہم شہروں پر قبضہ کر لیا۔ حکومتی فوج کی کمزور مزاحمت اور مسلسل پسپائی کے باعث یہ مہم برق رفتاری سے آگے بڑھتی گئی۔

معیشت اور فوجی حمایت کا بحران
شام کی گرتی ہوئی معیشت اور عوام کی بدحالی نے اسد حکومت کو کمزور کر دیا تھا۔ عوام میں بڑھتی مایوسی اور حکومتی غیر مقبولیت کے باعث فوجی اہلکار اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونے لگے۔ اس دوران روس اور ایران کی جانب سے کسی بڑی فوجی مدد نہ ملنے نے حکومت کو مزید تنہا کر دیا۔
شامی عوام کا ردعمل
دمشق اور دیگر شہروں میں باغیوں کی فتح کا جشن منایا گیا۔ انقلابی پرچم لہرائے گئے، بشار الاسد کے مجسمے گرا دیے گئے، اور مساجد میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ باغیوں نے جیلوں سے سیاسی قیدیوں کو رہا کر کے “ظلم کے خاتمے” کا اعلان کیا۔ عوام نے اپوزیشن کو ایک نئے آغاز کا خیرمقدم کیا۔
آگے کا منظرنامہ: شام کا مستقبل
اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام کا سیاسی منظرنامہ غیر واضح ہے۔ وزیر اعظم محمد غازی الجلالی نے عبوری حکومت کے قیام میں تعاون کی پیشکش کی ہے، جبکہ اپوزیشن نے عوامی اداروں کو فعال رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شام کی تعمیر نو اور استحکام کے لیے تمام فریقین کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔
ایک نیا باب: امید اور چیلنجز
شام کے عوام نے ایک طویل جنگ اور صبر آزما جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایک نیا باب کھل چکا ہے جس میں قومی مفاہمت، عوامی اتحاد، اور عالمی برادری کی مدد سے شام ایک بہتر اور روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔