رنجیدہ اورسنجیدہ

دین فطرت اِسلام اپنی سچی تعلیمات سمیت انسانیت کیلئے سودمند اعلیٰ روایات کے بل پردوسرے ادیان سے منفرداورممتاز ہے۔سرورکونین حضرت سیّدنا محمدرسول اللہ خاتم الاانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم اپنی ظاہری حیات میں کسی بھی کام میں کفاراوراہل یہودکے ساتھ مشابہت پسند نہیں فرماتے تھے لہٰذاء انہوں نے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا ہم 9اور10محرم الحرام کاروزہ رکھیں گے۔سراپا رحمت کایہ اقدام ہرمسلمان کیلئے پیغام ہے،ہم میں سے کوئی کسی بھی معاملے میں کافروں کی پیروی یاان کی مشابہت اختیار نہیں کرسکتا۔عبادت کے سلسلہ میں یہودیوں کیلئے”ہفتہ“،مسیحیوں کیلئے”اتوار“ جبکہ مسلمانوں کیلئے جمعتہ المبارک کادن افضل ہے۔اس طرح مسلمانوں اورہندوؤں میں کچھ بھی یکساں نہیں، یہ فرق دوقومی نظریہ کابنیادی نکتہ ہے۔یادرکھیں کوئی سچامسلمان کسی قیمت پر انتہاپسندہندوؤں کے کلچر سے متاثر نہیں ہوسکتا۔آنجہانی اندراگاندھی کی بہوسونیاگاندھی نے ایک بار کہا تھا بھارت نے ثقافت کے محاذ پرپاکستان کوشکست دے دی ہے کیونکہ ہمارے ہاں مخصوص عناصر بھارتی فلم انڈسٹری کے مداح ہیں اور یہ کنجر طبقہ ہماری نظریاتی اسلامی ریاست کوبنجر بناناچاہتا ہے، ہمارے زیادہ ترمیڈیا ہاؤسز ایک خاص ایجنڈے کے تحت بے حیائی کوفروغ دے رہے،یادرکھیں اسلامی ریاست ومعاشرت میں منظم ”بے حیائی“ کاطوفان”مہنگائی“ سے بڑا بحران ہے۔10مئی کوپاک فوج کے ہاتھوں بھارت کی شکست فاش کے بعدبسنت کومسترد کرتے ہوئے دشمن کا نظریاتی اورثقافتی میدان میں بھی ناطقہ بندکرناہوگا۔بسنت نامی ہندوؤانہ تہوار ہماری اسلامی تعلیمات اورملی روایات سے متصادم ہے،کوئی اسلامی ریاست اورمعاشرت ہندوؤانہ تہوار کوفروغ نہیں دے سکتی۔

ہندوؤانہ تہواربسنت کی تاریخ اوراس کے تاریک رخ سے کوئی انکارنہیں کرسکتا۔ ہندو ملعون گستاخ حقیقت رائے کی یادمیں بسنت مناتے ہیں، بسنت کی تقریبات میں پیلے لباس پہننا، سرسوتی دیوی(ہندو مت میں سنگیت اور فنون کی دیوی) کی پوجا اور پتنگ بازی کرنا شامل ہے۔ہندو ویدوں کی رو سے بسنت سرسوتی دیوی سے منسوب ہے۔بسنت پر اظہار مسرت کیلئے پتنگیں اڑائی جاتی ہیں اور سنگیت سناجاتا ہے۔ ایک ہندو مورخ”بی ایس نجار“ کی تصنیف ”Punjab under the later Mughals” کے مطالعہ سے معلوم ہوا، ”حقیقت رائے سیالکوٹ کے ایک ہندو کھتری کا بیٹا تھا۔ حقیقت رائے نے سرورکونین کی شان پرناکام حملے کاارتکاب کیا۔ حقیقت رائے کو اس مجرمانہ جسارت پر گرفتار کرکے عدالتی کارروائی کیلئے لاہور بھیجا گیا جہاں اسے سزائے موت سنادی گئی۔ اس واقعہ سے پنجاب کے ہندوؤں کو شدید دھچکا لگا۔ اُس وقت کے گورنر پنجاب ذکریا خان (1707ء تا 1759ء) سے حقیقت رائے کو معاف کرنے کی استدعا کی گئی لیکن زندہ ضمیر ذکریا خان نے ہندوؤں کی درخواست مسترد کر تے ہوئے مجرم کی سزائے موت پر نظر ثانی کرنے سے صاف انکار کر دیا لہٰذاء اس ملعون گستاخ کوتختہ دار پرلٹکادیا گیا۔ اس پر ہندوؤں میں صف ماتم بچھ گئی۔ ہندوقوم کی طرف سے حقیقت رائے کی ایک یادگار تعمیر کی گئی جو کوٹ خواجہ سعید (کھوجے شاہی) لاہور میں واقع ہے اور اب یہ مقام ”باوے دی مڑہی” کے نام سے مشہور ہے۔ حقیقت رائے کی سزائے موت کاایک سال پوراہونے پر مقامی رئیس ہندو کالو رام کے ہاں تمام ہندو اکھٹے ہوئے، جہاں ا نہوں حقیقت رائے کی یادمیں پتنگیں اڑائیں اور ڈھول بجائے“۔ ایک ہندوطبقہ بسنت کو موسمی نہیں بلکہ مذہبی تہوار سمجھتا ہے چونکہ اس کا ذکر پرانی ہندو مذہبی کتب میں ملتا ہے۔ پرانی کتابوں کے مطابق پتنگوں اورگڈوں پر دو آنکھیں یا دوسری شکلیں بنا کر آسمان سے نازل ہونے والی بلاؤں کو دور کیا جاتا ہے۔ یہ توہم پرستی سنگاپوراور تھائی لینڈسمیت جنوب مشرقی ایشیا ء کے کچھ ملکوں میں بھی پا ئی جاتی ہے۔بالفرض حقیقت رائے والی بات میں حقیقت نہ بھی ہوتوبسنت کی صورت میں قاتل ڈورکاخطرہ مزید بڑھ جائے گا۔

راقم کے نزدیک بسنت تہوار نہیں بلکہ دودھار والی تلوار ہے،مخصوص اورمنحوس پتنگ باز قاتل ڈورکے وار سے ہمارے بچوں سمیت شہریوں کے گلے کاٹ رہے ہیں اورتین دہائیوں کے دوران اب تک کسی قاتل کو تختہ دار پرنہیں لٹکایاگیا،راقم کے نزدیک قاتل ڈورسے ہونیوالی اموات حادثات نہیں بلکہ قتل عمد ہیں جبکہ ریاست نے آج تک کسی مقتول کوانصاف دیا۔پچھلے دنوں عدالت عالیہ لاہور کے ایک فاضل جسٹس نے بسنت کیخلاف رٹ کی سماعت کے دوران چائنہ میں ہونیوالی پتنگ بازی کاریفرنس دیا،چائنہ میں تواوربھی بہت کچھ ہوتا ہے۔ چینی شہری جوکچھ تناول کرتے ہیں وہ ہم نہیں کرسکتے لہٰذاء وہاں ہونیوالی پتنگ بازی کوبنیادبناکرپنجاب میں شہریوں کی زندگی داؤپرلگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔پچھلی تین دہائیوں سے پتنگ بازی جان کی بازی بن گئی ہے۔قاتل ڈور نے تین دہائیوں میں سینکڑوں ماؤں کی گودیں اجاڑ ی ہیں،کاش ”سب کی ماں“ مریم نواز کوان بیچاری ماؤں کاماتم یادہوتا۔خاتون وزیراعلیٰ کی طرف سے بوتل میں بند بسنت کا آدم خوربھوت آزادکرنے سے غمزدہ ماؤں کا زخم تازہ ہوگااورتین روزہ بسنت کے دوران ا للہ نہ کرے بچوں سمیت مزیدشہریوں کے زخمی ہونے یا مرنے کا خطرہ ہے۔بسنت پرہوائی فائرنگ سے بھی کئی بیگناہ مارے جاتے ہیں۔بوکاٹا کی توہین آمیزآوازوں سے نفرت اورنسل درنسل دشمنی کاآغاز ہوتا ہے۔ گڈیاں اڑانے سے مقروض پاکستان کی معیشت”ٹیک آف“ نہیں کرے گی، مقروض ملک میں بسنت نامی فتنہ سے وقت، قومی وسائل اورقیمتی جانوں کا ضیاع ہوگا۔

بدقسمتی سے جہاں بدانتظامی اور من مانی کا دوردورہ ہووہ آئینی حکمرانی اورعوام کی ترجمانی کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہواکرتا۔پنجاب میں جمہوریت کے نام پرشخصی آمریت، خوداعتمادی کی بجائے خودپسندی بلکہ خودپرستی کاراج ہے ورنہ شدید عوامی دباؤپربسنت منانے کاعاقبت نااندیشانہ اورآمرانہ فیصلہ ضرورتبدیل ہوجاتا۔انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ، مرکزی مسلم لیگ اورجماعت اسلامی سمیت متعدد سیاسی ومذہبی پارٹیز نے مجوزہ سہ روزہ بسنت کیخلاف انتہائی شدت سے اظہار نفرت اوراظہارمذمت کیاہے لیکن حکمران طبقہ پیچھے نہیں ہٹنا چاہتا۔لاہورسمیت پنجاب میں قاتل ڈور سے ہونیوالی دلخراش اموات کے باوجود خاتون وزیراعلیٰ ”رنجیدہ“ اورمستقبل میں قیمتی جانوں کے بچاؤکیلئے”سنجیدہ“ نہیں ہیں۔خاتون وزیراعلیٰ کا کوئی وزیریامشیراس کے ساتھ کسی بات پر”ڈِفر“ نہیں کرتا،سواس ناتجربہ کارمنتظم اعلیٰ کے”ارادوں“ کی تکمیل کیلئے پنجاب تختہ مشق بناہوا ہے۔چیف سیکرٹری سمیت سرکاری حکام بھی مزاحمت کی بجائے اطاعت کررہے ہیں۔پنجاب میں شعبدہ بازی کے سبب کوئی شعبہ کام نہیں کررہا۔سہ روزہ بسنت منانے سے مخصوص لوگ یقینا خاتون وزیراعلیٰ سے خوش ہوں گے لیکن باشعورافراد کااس پر مزیدبرہم ہونایقینی ہے۔ سنجیدہ طبقات کی شدید تنقید،بے چینی،بیقراری اوربیزاری کے باوجود تخت لاہورپربراجمان خاتون منتظم اعلیٰ کا بسنت نامی ہندوؤانہ تہوار منانے کااعلان اسلامی تعلیمات،روایات اوراقدار سے متصادم ہے۔صوبائی حکومت کابسنت جنون عوام کاخون بہا اورماؤں کی گودیں اجاڑسکتا ہے۔ پنجاب حکومت پتنگ بازی کے فروغ سے نوجوانوں کوکردارکاغازی نہیں بناسکتی،نوجوانوں کی اچھی صحت کیلئے”پتنگ سازی“ نہیں ”بدن سازی“ کی ضرورت ہے۔پنجاب حکومت کا پرجوش انداز سے سرکاری سطح پر بسنت کااہتمام ناقابل فہم ہے، صوبائی حکومت وضاحت پیش کرے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف تھانوں میں پتنگ سازوں،پتنگ فروشوں اورپتنگ بازوں کیخلاف درج ہزاروں مقدمات کاکیابنے گا۔حکمران یادرکھیں مسلمانوں کی طمانیت کیلئے روحانیت سے بھرپور اسلامی تہوارکافی ہیں،وہ کسی ہندوؤانہ تہوار کے محتاج نہیں۔

پنجاب حکومت کے پاس بسنت منانے کاکوئی شرعی،قانونی اوراخلاقی جوازنہیں۔ پنجاب کی حکمران جماعت نے اس متنازعہ اقدام کیلئے عوام سے مینڈیٹ نہیں لیا۔کوئی زندہ ضمیر انسان قاتل ڈوراور پتنگ بازی کے حق میں ووٹ نہیں دے سکتا۔2000ء سے 2025ء تک پنجاب بھرمیں خونیں بسنت پرپابندی عائد تھی،تین دہائیوں کے دوران پرویزمشرف کے معتمد بریگیڈئیر (ر) شفیع غازی، متعددمنتخب وزرائے اعلیٰ چوہدری پرویزالٰہی، دوست محمدکھوسہ،شہبازشریف،عثمان بزدار اورحمزہ شہبازنے بسنت کی اجازت نہیں دی تھی لہٰذاء مریم نواز بھی بسنت کے آدم خوربھوت کوبوتل میں بندرکھیں۔اگرشخصی فیصلے بندنہ ہوئے توقاتل ڈور کابندٹوٹ جائے گااورہمارے بچوں سمیت بیگناہ شہریوں کو اس کی بھاری قیمت چکاناپڑے گی۔ معاشرے کے سنجیدہ طبقات کی طرف سے بسنت کی اجازت پر شدید تحفظات کااظہارمنظرعام پرآنے کے باوجود پنجاب حکومت ہٹ دھرمی کامظاہرہ نہ کرے۔ اللہ نہ کرے اگر بسنت کے نتیجہ میں شہریوں کی اموات ہوتی ہیں یابچے زخمی ہوتے ہیں تواس صورت میں کون خودکوانصاف کیلئے پیش کرے گا۔ مذموم بسنت کے دوران انسانوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کے خدشات اورشدیدخطرات سے انکار نہیں کیاجاسکتا لہٰذاء اس کی اجازت کاعاقبت نااندیشانہ فیصلہ فوری واپس لیاجائے۔مسلم لیگ (ن) نے8فروری2024ء کے اپنے انتخابی منشورمیں بسنت کانام نہادتہوار منانے کاعندیہ تک نہیں دیا تھا۔ پنجاب سمیت کسی حکمران جماعت کواپنے انتخابی منشور سے تجاوزکرنے کاحق نہیں پہنچتا۔پنجاب حکومت کوبسنت منانے کی آڑ میں شہریوں اوربالخصوص بچوں کی زندگیاں داؤپرلگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہیلمٹ استعمال کرنے کے حامی حکمرانوں کاشہریوں کوقاتل ڈور کے رحم وکرم پرچھوڑ نا ان کی نیت اور اہلیت پرایک بڑاسوالیہ نشان ہے

Author

اپنا تبصرہ لکھیں