اسلام آباد امریکہ نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے خودکش ونگ مجید بریگیڈ کو باضابطہ طور پر “غیر ملکی دہشت گرد تنظیم” (FTO) قرار دے دیا ہے، حالانکہ واشنگٹن ماضی میں چین کے سی پیک منصوبے پر کھل کر تنقید کرتا رہا ہے اور بی ایل اے بھی اسی منصوبے کی مخالفت کرتی آئی ہے۔ اس فیصلے نے ماہرین کو اس اقدام کے محرکات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ اقدام بی ایل اے کے حالیہ مہلک حملوں کے ردعمل میں کیا گیا، جن میں مارچ 2025 میں بولان میں جے فر ایکسپریس ٹرین ہائی جیکنگ اور کراچی و گوادر میں خودکش دھماکے شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں غیر ملکی کارکنان اور اہم اقتصادی منصوبے بھی نشانہ بنے۔ بی ایل اے کا قیام سنہ 2000 کے قریب ہوا، جبکہ مجید بریگیڈ 2010 کے بعد سے خودکش اور ہائی ویلیو اہداف پر حملوں کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ دونوں گروہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت جاری منصوبوں، خاص طور پر گوادر پورٹ اور چینی انجینیئرز کو بارہا نشانہ بنا چکے ہیں۔
امریکہ نے سی پیک پر بارہا اعتراض کیا ہے کہ یہ پاکستان کو بھاری قرضوں کے بوجھ میں ڈال کر چین کے اثر و رسوخ کو بڑھاتا ہے، اس کے باوجود، بی ایل اے پر پابندی نے سوال پیدا کیے ہیں کہ کیا واشنگٹن اپنے پہلے مؤقف سے پیچھے ہٹ رہا ہے یا یہ صرف خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کا ایک نیا حربہ ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی پالیسی اکثر “دو دھاری تلوار” جیسی رہی ہے ، ایک طرف وہ انسانی حقوق، جمہوریت اور دہشت گردی کے خلاف بیانیہ پیش کرتا ہے، اور دوسری طرف خطے میں اپنے جیو اسٹریٹجک مفادات کے لیے عسکری، سیاسی یا اقتصادی دباؤ ڈالنے سے گریز نہیں کرتا۔ ماضی میں افغانستان، عراق اور شام میں اس کے اقدامات کو وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اور پاکستان میں بھی بعض حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں امریکی دلچسپی صرف سلامتی تک محدود نہیں بلکہ معدنیات، توانائی کے وسائل اور بندرگاہوں تک رسائی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
ماضی میں امریکی کانگریس اور پالیسی ساز اداروں کے بعض نمائندے جلاوطن بلوچ رہنماؤں اور انسانی حقوق کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں بلوچ علاقوں کی صورتِ حال، وسائل کی تقسیم، اور بعض اوقات سیاسی خودمختاری یا آزادی کے امکانات پر بات چیت بھی ہوئی۔ چند بلوچ رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں غیر رسمی طور پر بین الاقوامی حمایت، حتیٰ کہ آزادی کی یقین دہانیاں بھی دی گئی تھیں، تاہم عملی میدان میں واشنگٹن نے کبھی کھل کر اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا۔ بی ایل اے پر حالیہ پابندی ایسے دعووں کے برعکس دکھائی دیتی ہے، جس سے بلوچ حلقوں میں شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں،
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی اقدام کا وقت بھی اہم ہے، کیونکہ یہ پاکستان کی عسکری قیادت کے واشنگٹن دورے اور بلوچستان میں تیل و معدنیات کے ممکنہ منصوبوں پر بات چیت کے فوراً بعد سامنے آیا۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ امریکہ نہ صرف سی پیک کے متبادل اقتصادی مواقع چاہتا ہے بلکہ خطے میں اپنی موجودگی اور اثر کو مستحکم کرنے کے لیے سکیورٹی اقدامات کو بطور اوزار استعمال کر رہا ہے۔ سی پیک کی مخالفت اور بی ایل اے پر پابندی کے درمیان بظاہر تضاد موجود ہے، لیکن ماہرین کے نزدیک دونوں اقدامات کی نوعیت اور ترجیحات الگ ہیں — سی پیک پر تنقید چین کے بڑھتے اثر و رسوخ اور قرضوں کے جال پر مبنی ہے، جبکہ بی ایل اے کے خلاف کارروائی فوری سکیورٹی خطرات اور اپنے ممکنہ معاشی منصوبوں کو محفوظ بنانے کی حکمت عملی ہے۔