پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں صبح سے دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق، کوئٹہ میں ہونے والے ایک حملے میں دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں، جس کے بعد شہر کے حساس علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان نے صورتحال کے پیش نظر صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تصدیق کی ہے۔ کوئٹہ کے علاوہ پسنی، نوشکی اور خاران سے بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امن و امان کی صورتحال کے باعث کوئٹہ آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی تمام ٹرینیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر شاہد رند نے کہا ہے کہ صوبے کے چند مقامات پر شدت پسندوں نے حملوں کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔ ان کے مطابق، گزشتہ دو روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 70 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جس کے بعد شدت پسندوں نے جوابی کارروائی کی کوشش کی۔ شاہد رند نے بتایا کہ فرار ہونے والے شدت پسندوں کا تعاقب جاری ہے اور مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ‘فتنہ الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں کو ناکام بنا دیاہے۔ ان کے مطابق، بروقت اور مؤثر کارروائی کے دوران 37 شدت پسند ہلاک کیے گئے، تاہم ان کارروائیوں میں 10 سکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے ہیں۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں 12 مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کیے، جن میں کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر شامل ہیں۔ وزیراعظم آفس کے مطابق، گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مختلف سکیورٹی آپریشنز میں مجموعی طور پر 88 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں آپریشن ’’ہیروف‘‘ کا دوسرا مرحلہ قرار دیا گیا ہے۔