برطانیہ میں کی گئی ایک نئی سائنسی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ بحیرہ روم کے ممالک طرز پر مبنی غذا مسوڑھوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ غذا عموماً سبزیوں، پھلوں، اجناس، کم چکنائی والے گوشت اور مرغی پر مشتمل ہوتی ہے۔
تحقیق میں تقریباً 200 افراد کی روزمرہ خوراک اور ان کی مسوڑھوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے دیکھا کہ جن افراد کی خوراک میں سبزیاں اور پھل کم، جبکہ سرخ گوشت کی مقدار زیادہ تھی، ان میں مسوڑھوں کی شدید بیماریوں کے امکانات کئی گنا زیادہ تھے۔ ایسے افراد میں سوجن، خون آنا، اور دانتوں کے گرنے جیسے مسائل زیادہ دیکھے گئے۔
برطانیہ میں ہر دو میں سے تقریباً ایک شخص (یعنی 45 فیصد آبادی) کسی نہ کسی قسم کی مسوڑھوں کی بیماری کا شکار ہے، جو اگر بروقت نہ روکی جائے تو مستقل دانتوں کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ یہ واضح طور پر ثابت نہیں ہو سکا کہ سرخ گوشت براہِ راست ان بیماریوں کا سبب بنتا ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ سبزیوں اور پودوں سے حاصل ہونے والے اجزاء جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ سوزش ہی مسوڑھوں کی خرابی کی ایک بڑی وجہ ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق خوراک اور دانتوں کی صحت کے تعلق کو سمجھنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ ان کے مطابق متوازن غذا، خاص طور پر سبزیوں اور پھلوں سے بھرپور خوراک، نہ صرف جسمانی صحت بلکہ دانتوں اور مسوڑھوں کی حفاظت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
تحقیق کے نتائج عوام کو اس جانب راغب کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی غذا میں تبدیلی لائیں اور طرزِ زندگی کو بہتر بنا کر طویل المدتی طبی فوائد حاصل کریں، جن میں مسوڑھوں کی بیماریوں سے بچاؤ بھی شامل ہے۔