‘بہاؤالدین نقشبند’، بخارا سے اٹھنے والی وہ روحانیت جس نے نصف دنیا کو متاثر کیا

وسطی ایشیا کی سرزمین صدیوں سے علم، تہذیب اور روحانیت کا گہوارہ رہی ہے۔ اس خطے نے ایسے علما، صوفیا اور مفکرین پیدا کیے جن کی تعلیمات نے نہ صرف اپنے زمانے بلکہ آنے والی صدیوں کو بھی متاثر کیا۔ انہی شخصیات میں ایک نمایاں نام خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاری کا ہے، جنہیں اسلامی تصوف کی تاریخ میں ایک بلند مقام حاصل ہے۔

ان کے نام سے منسوب سلسلۂ نقشبندیہ آج بھی دنیا کے بڑے روحانی سلسلوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی تعلیمات نے وسطی ایشیا سے لے کر افغانستان، ترکی اور برصغیر تک لاکھوں لوگوں کی روحانی زندگی پر اثر ڈالا۔آج بھی بخارا کے قریب واقع ان کا مزار ایک اہم روحانی مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ حاضری دینے آتے ہیں۔

چودھویں صدی میں بخارا اسلامی دنیا کے اہم علمی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں مدارس، خانقاہیں اور علمی حلقے قائم تھے جہاں فقہ، حدیث اور تصوف پر بحث و تدریس کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔اسی ماحول میں 1318ء کے قریب بخارا کے نواحی گاؤں قصرِ عارفان میں بہاؤالدین نقشبند کی پیدائش ہوئی۔

ان کے خاندان کا تعلق مذہبی ماحول سے تھا۔ روایت کے مطابق ان کی پیدائش سے پہلے ہی معروف صوفی بزرگ خواجہ محمد بابا سماسی نے پیش گوئی کی تھی کہ اس بچے سے ایک بڑی روحانی شخصیت جنم لے گی۔بچپن ہی سے ان میں سنجیدگی اور عبادت کا رجحان نمایاں تھا۔ انہوں نے کم عمری میں قرآن کریم حفظ کیا اور دینی علوم حاصل کیے، تاہم ان کا جھکاؤ صرف رسمی تعلیم تک محدود نہ رہا بلکہ وہ روحانی تربیت اور باطنی اصلاح کی طرف زیادہ مائل تھے۔

حضرت بہاؤالدین نقشبندؒ کی روحانی تربیت کئی صوفی بزرگوں کی صحبت میں ہوئی۔ ان کے ابتدائی مرشد خواجہ محمد بابا سماسی تھے، جنہوں نے انہیں تصوف کی راہ پر چلنے کی ترغیب دی۔بعد ازاں ان کی تربیت خواجہ امیر کلال کے ہاتھوں ہوئی، جو اس زمانے کے نمایاں صوفیا میں شمار کیے جاتے تھے۔

خواجہ امیر کلالؒ کی صحبت میں انہوں نے روحانی مجاہدات، ذکر و فکر اور نفس کی تربیت کے مختلف مراحل طے کیے۔ اس تربیت کا بنیادی مقصد انسان کے باطن کو پاک کرنا اور دل کو اللہ کی یاد سے زندہ رکھنا تھا۔یہی روحانی تجربہ بعد میں ان کی تعلیمات کی بنیاد بنا۔

حضرت بہاؤالدین کا اصل نام محمد بن محمد بخاری تھا، مگر وقت کے ساتھ انہیں “نقشبند” کے لقب سے شہرت ملی۔اس لقب کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق وہ اللہ کے ذکر کو اپنے دل میں اس طرح راسخ کرتے تھے جیسے کوئی نقش پتھر پر کندہ ہو جائے۔ اسی لیے انہیں “نقشبند” یعنی “نقش بنانے والا” کہا جانے لگا۔

ایک دوسری روایت یہ بھی ہے کہ وہ قالین بافی کے کام سے وابستہ تھے، جس میں خوبصورت نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ تاہم روحانی حلقوں میں پہلی روایت زیادہ مقبول ہے کیونکہ یہ ان کی روحانی کیفیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

دنیا میں معروف ہونے والے’ خاموش ذکر’کا سلسلہ

حضرت بہاؤالدین نقشبندؒ نے جس روحانی سلسلے کی بنیاد رکھی وہ بعد میں سلسلۂ نقشبندیہ کے نام سے معروف ہوا۔یہ سلسلہ دیگر صوفی سلسلوں کے مقابلے میں چند منفرد خصوصیات رکھتا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت ذکرِ خفی یعنی خاموش ذکر ہے، جس میں اللہ کا ذکر بلند آواز کے بجائے دل ہی دل میں کیا جاتا ہے۔

اس سلسلے کے بنیادی اصولوں میں سادگی، عاجزی، خدمتِ خلق اور شریعت کی پابندی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اہم تصور یہ بھی ہے کہ انسان کو معاشرے سے الگ تھلگ ہونے کے بجائے معاشرے کے اندر رہتے ہوئے اپنی روحانی زندگی کو بہتر بنانا چاہیے۔

ان کا ایک مشہور قول ہے کہ دل با یار، دست با کار؛ یعنی دل اللہ کے ساتھ ہو اور ہاتھ کام میں مصروف ہوں۔یہ مختصر جملہ ان کی تعلیمات کا نچوڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو خانقاہی زندگی تک محدود ہونے کے بجائے عملی زندگی میں حصہ لینا چاہیے۔کاروبار، محنت اور معاشرتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دل میں اللہ کی یاد کو زندہ رکھنا ہی حقیقی روحانیت ہے۔

حضرت بہاؤالدین نقشبندؒ اپنی زندگی میں انتہائی سادہ طرزِ زندگی اختیار کرتے تھے۔ وہ دنیاوی شان و شوکت سے دور رہتے اور اکثر اپنے ہاتھ سے محنت کرتے تھے۔ان کی خانقاہ میں امیر اور غریب سب کو برابر سمجھا جاتا تھا۔ وہ لوگوں کو نصیحت کرتے کہ غرور اور تکبر انسان کی روحانی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

ان کی مجالس میں صرف عبادت کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی بلکہ اخلاق، دیانت اور معاشرتی ذمہ داریوں پر بھی زور دیا جاتا تھا۔یہی وجہ تھی کہ ان تعلیمات بہت جلد وسطی ایشیا کے مختلف علاقوں میں پھیل گئیں۔ سمرقند اور خوارزم کے علما اور صوفیا نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔

بعد ازاں یہ سلسلہ ایران، افغانستان اور عثمانی سلطنت تک پہنچ گیا۔برصغیر میں بھی نقشبندی سلسلے کا گہرا اثر رہا اور کئی معروف صوفی بزرگ اس سے وابستہ رہے۔ یوں وقت کے ساتھ یہ سلسلہ ایک عالمی روحانی روایت کی شکل اختیار کر گیا۔

آخری ایام اور مزار

حضرت بہاؤالدین نقشبندؒ نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ بخارا اور اس کے اطراف میں گزارا۔ وہ اکثر اپنے گاؤں قصرِ عارفان میں رہتے تھے جہاں لوگ روحانی رہنمائی کے لیے دور دور سے آتے تھے۔1389ء میں ان کا وصال ہوا اور انہیں اسی مقام پر سپرد خاک کیا گیا۔ بعد ازاں ان کے مزار کے گرد ایک بڑا روحانی و تاریخی کمپلیکس تعمیر ہوا جو آج ازبکستان کے اہم زیارتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

آج کا بخارا اور روحانیت کی روایت

آج بھی بخارا آنے والے زائرین اور سیاح تاریخی مساجد اور مدارس کے ساتھ ساتھ حضرت بہاؤالدین نقشبندؒ کے مزار کی زیارت بھی کرتے ہیں۔یہ مقام روحانی سکون کا احساس دلاتا ہے جبکہ وسطی ایشیا کی صدیوں پر محیط علمی اور صوفی روایت کی یاد بھی تازہ کرتا ہے۔ازبکستان کی حکومت بھی اس مقام کو قومی ثقافتی ورثے کے طور پر محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حضرت بہاؤالدین نقشبندؒ کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ حقیقی روحانیت دنیا سے کنارہ کشی میں نہیں بلکہ دنیا کے اندر رہتے ہوئے اخلاق، محنت اور خدمت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ان کی تعلیمات آج بھی لاکھوں انسانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ سادگی، اخلاص اور اللہ کی یاد کا پیغام ہی ان کی اصل میراث ہے۔

اسی لیے وسطی ایشیا میں ایک مشہور مقولہ ہے کہ ‘اگر بخارا کی روحانی پہچان کسی ایک نام سے جڑی ہے تو وہ بہاؤالدین نقشبند کا نام ہے۔’

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں