6 اپریل 2026 کو انسانی خلائی سفر کی تاریخ میں ایک اہم دن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جب ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن نے خلا میں ایک نئی حد کو چھونے کی جانب پیش رفت کی۔ یہ مشن نہ صرف چاند کے گرد پرواز کر رہا ہے بلکہ انسان کی زمین سے سب سے زیادہ دور جانے کے ریکارڈ کو بھی توڑنے کے قریب ہے، جو اس سے قبل اپالو 13 مشن کے پاس تھا۔
آرٹیمس ٹو یکم اپریل کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوا، جس میں چار خلا باز سوار ہیں۔ یہ دس روزہ مشن ہے جس کا مقصد مستقبل میں چاند اور اس سے آگے کے مشنز کے لیے تیاری کرنا ہے۔ مشن کے دوران خلائی جہاز اوریئن کے زمین سے تقریباً چار لاکھ چھ ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے تک پہنچنے کی توقع ہے، جو انسانی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کرے گا۔
یہ مشن ناسا کے آرٹیمس پروگرام کا حصہ ہے، جو ایک طویل مدتی منصوبہ ہے۔ اس پروگرام کا مقصد 1972 کے بعد پہلی بار انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنا، وہاں مستقل بنیادوں پر موجودگی قائم کرنا اور مستقبل میں مریخ تک انسانی رسائی کو ممکن بنانا ہے۔ اس سے قبل آرٹیمس ون ایک غیر انسانی آزمائشی پرواز تھی جو 2022 میں کامیابی سے مکمل ہوئی تھی۔
آرٹیمس ٹو میں شامل خلا بازوں میں ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ یہ ٹیم خلائی جہاز کے مختلف نظاموں کی جانچ کرے گی، سائنسی تجربات انجام دے گی اور چاند کے گرد پرواز کے دوران اہم ڈیٹا جمع کرے گی۔ اس دوران خلا باز کبھی کبھار جہاز کو خود بھی کنٹرول کریں گے تاکہ مستقبل کے طویل مشنز کے لیے تیاری مکمل کی جا سکے۔
مشن کے دوران خلا باز خلا سے زمین کی تصاویر بھی لے رہے ہیں۔ ایک تصویر، جسے “ہیلو ورلڈ” کا نام دیا گیا ہے، خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے کیونکہ اس میں زمین الٹی دکھائی دے رہی ہے اور اس کے ساتھ قطبی روشنیاں بھی نمایاں ہیں۔
خلائی سفر کے دوران خوراک کے لیے خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔ خلا باز اپنے ساتھ پہلے سے تیار شدہ خوراک لے گئے ہیں، جسے خلا میں پانی کے ذریعے قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے کیونکہ جہاز میں فریج جیسی سہولیات موجود نہیں ہیں۔
یہ مشن 10 اپریل کو بحرالکاہل میں سان ڈیاگو کے قریب اختتام پذیر ہونے کی توقع ہے، جہاں لینڈنگ کے بعد خلا بازوں کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔
چاند زمین سے اوسطاً تین لاکھ چوراسی ہزار کلومیٹر دور ہے اور اس کی کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اسی وجہ سے وہاں انسان کا وزن نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔ چاند پر آخری بار 1972 میں انسان نے قدم رکھا تھا، جس کے بعد اب آرٹیمس پروگرام کے ذریعے ایک بار پھر وہاں جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق چاند کے جنوبی قطب پر پانی کی موجودگی کے امکانات ہیں، جو مستقبل میں انسانی بستی کے قیام کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں آرٹیمس پروگرام کو نہ صرف چاند بلکہ مریخ تک انسانی سفر کی تیاری کا ایک اہم مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔