ایپل اور گوگل کا اے آئی معاہدہ، سری میں جیمینائی شامل کرنے کا فیصلہ

ایپل نے اپنی آواز سے چلنے والی اسسٹنٹ سروس سری (Siri) کو جدید بنانے کے لیے گوگل کی مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی جیمینائی (Gemini) استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے ایپل اور گوگل کے درمیان ایک طویل المدتی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت رواں سال کے آخر میں متعارف کرائی جانے والی نئی سری گوگل کے جدید اے آئی ماڈلز پر کام کرے گی۔

گوگل کے مطابق، ایپل نے مختلف اے آئی ٹیکنالوجیز کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ گوگل کی جیمینائی ٹیکنالوجی ایپل کے فاؤنڈیشن ماڈلز کے لیے سب سے مضبوط اور قابلِ اعتماد بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت جیمینائی نہ صرف سری بلکہ مستقبل میں ایپل کے دیگر اے آئی فیچرز کو بھی طاقت فراہم کرے گی۔

یہ معاہدہ گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل گوگل کی اے آئی ٹیکنالوجی سام سنگ کے گلیکسی اے آئی میں استعمال ہو رہی تھی، تاہم ایپل کے دو ارب سے زائد فعال ڈیوائسز تک رسائی حاصل کرنا گوگل کے لیے ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔

اس معاہدے کے باعث ایپل اور اوپن اے آئی کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یاد رہے کہ ایپل نے 2024 میں چیٹ جی پی ٹی کو اپنے ڈیوائسز میں شامل کیا تھا، جس کے ذریعے سری مشکل سوالات کے جواب لینے کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لیتی تھی۔ تاہم ایپل کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ شراکت میں فی الحال کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی۔

دوسری جانب ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے اس معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوگل کے پاس پہلے ہی اینڈرائیڈ اور کروم جیسے بڑے پلیٹ فارمز موجود ہیں، ایسے میں یہ شراکت طاقت کے غیر منصفانہ ارتکاز کا باعث بن سکتی ہے۔ ایلون مسک خود بھی اپنی اے آئی کمپنی xAI کے ذریعے اس میدان میں مقابلہ کر رہے ہیں۔

ایپل کو حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے، جن میں سری کی اپ ڈیٹ میں تاخیر، اعلیٰ سطحی انتظامی تبدیلیاں اور اے آئی فیچرز پر صارفین کا کمزور ردعمل شامل ہے۔ اس نئے معاہدے کو ایپل کی جانب سے اپنی اے آئی حکمتِ عملی کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ معاہدہ ایپل اور گوگل کے درمیان پہلے سے موجود شراکت داری کو مزید وسعت دیتا ہے، جس کے تحت گوگل ایپل ڈیوائسز پر ڈیفالٹ سرچ انجن کے طور پر کام کر رہا ہے، اور دونوں کمپنیوں کو اس سے اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں