ازبکستان: اندیجان ریجن میں ترقیاتی منصوبوں سے 3 لاکھ 5 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی

صدر شوکت مرزایوف کو اندیجان ریجن کی سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق اصلاحات کے نتائج اور آئندہ کے منصوبوں پر مبنی رپورٹ پیش کی گئی۔

18 نومبر 2024 کے صدارتی فرمان کے تحت اس خطے میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور عوام کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ نافذ کیا جا رہا ہے۔

رواں سال کے دوران اس منصوبے میں 3.1 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری، 1.5 ارب ڈالر کی برآمدات، 3 لاکھ 5 ہزار نئی ملازمتوں کی تخلیق اور 32 ہزار سے زائد خاندانوں کو غربت سے نکالنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

سال 2025 کے آغاز سے اب تک، اندیجان میں ایک ارب ڈالر مالیت کی نئی پیداواری تنصیبات قائم کی گئی ہیں، جب کہ 344 تجارتی و خدماتی مراکز بھی کھولے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، 2.5 ارب ڈالر کے مزید منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ صرف سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران، خطے نے 850 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی اور 465 ملین ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کی گئیں۔

صدر مرزایوف کے اپریل میں اندیجان کے دورے نے خطے کی ترقی کو نئی تحریک بخشی۔ اس دورے کے بعد ماہرین اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اصلاحاتی ٹاسک فورس قائم کی گئی، جس کا مقصد اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے نئی تجاویز تیار کرنا تھا۔
مستقبل کے منصوبوں میں ایک جدید کلینک کا قیام شامل ہے، جو جرمنی، ترکیہ اور جاپان کی روبوٹک ٹیکنالوجی سے آراستہ ہو گا۔ اس پر 40 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، اٹلی سے 20 ملین یورو کی سرمایہ کاری سے ایک ایگرو-کلسٹر اور جرمنی سے 25 ملین یورو کی لاگت سے ایک جدید زرعی لاجسٹک کمپلیکس قائم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ خان آباد، خوجہ آباد اور بولاگ باشی اضلاع میں سیاحتی انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے 30 سے زائد منصوبے تیار کیے گئے ہیں۔

مزید برآں، 1.1 ارب ڈالر مالیت کے اضافی منصوبوں کا ایک پورٹ فولیو بھی تیار کیا گیا ہے، جن کی تکمیل سے 22 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور سالانہ برآمدات میں 200 ملین ڈالر کا اضافہ ہو گا۔

صدر مرزایوف نے ہر شہر اور ضلع کی ترقی کے لیے انفرادی، مخصوص حکمت عملی اپنانے پر زور دیا اور ہدایت دی کہ، کم سرمایہ کاری والے علاقوں میں نئے منصوبے شروع کیے جائیں۔ انہوں نے بے روزگار افراد اور ضرورت مند خاندانوں کے لیے پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے پروگرام منظم کرنے اور محلوں کو جرائم سے پاک زونز میں تبدیل کرنے کی بھی ہدایت دی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں