امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم ختم کر دے گا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ بدھ کی شام قوم سے خطاب کریں گے، جس میں وہ جنگ سے متعلق اہم اعلان کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بھی کہا ہے کہ صدر اہم معلومات فراہم کریں گے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم بہت جلد وہاں سے نکل جائیں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ اپنے خطاب میں کیا لائحہ عمل پیش کریں گے، کیونکہ انہوں نے فوجی کارروائی میں اضافے کا امکان بھی مسترد نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے بنیادی اہداف حاصل کر لیے ہیں، اور جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ میں تیل کی قیمتیں بھی کم ہو جائیں گی۔ تاہم آبنائے ہرمز کی بندش، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، کو انہوں نے دیگر ممالک کا مسئلہ قرار دیا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اپنے اہم مقاصد حاصل کرنے کے قریب ہے۔ ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو کمزور کرنا اس کارروائی کا بنیادی ہدف ہے تاکہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہ رہے۔
تاہم امریکی حکام کے مطابق ایران کے اصفہان جوہری تنصیب میں اب بھی ایسے مواد موجود ہیں جو جوہری ہتھیار بنانے کے قریب سمجھے جاتے ہیں، اور ان کے خلاف مزید کارروائی زیر غور ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے تیل برآمد کرنے کے اہم مرکز خارگ جزیرہ پر حملے یا خلیج میں دیگر جزائر پر قبضے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے، تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کی جا سکے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے لیے جنگ سے نکلنے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ ابھی تک اپنے کئی بڑے اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکا، جن میں ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اس کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ شامل ہیں۔ جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
ادھر یورپی ممالک نے توانائی کے استعمال میں کمی کی اپیل کی ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے دیگر ممالک، خصوصاً نیٹو اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ خود آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اقدامات کریں۔