امریکا نے پاکستانی امداد روک دی ، اہم منصوبوں پر کام رک گیا

امریکا نے پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک کے لیے امدادی پروگرام معطل کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے اہم منصوبے رک گئے ہیں۔ امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غیر ملکی امدادی پروگراموں کو عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے، جس میں یوکرین، تائیوان، اور اردن جیسے ممالک کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ یہ امدادی پروگرام ابتدائی طور پر نوے دن کے لیے معطل کیے گئے ہیں اور ان کا دوبارہ آغاز ازسرنو جائزے کے بعد ہوگا۔
محکمہ خارجہ کی جانب سے امریکی سفارتی اور قونصل مشنز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ تمام غیر ملکی امدادی منصوبے فوری طور پر بند کر دیں اور اس ضمن میں کوئی بھی سرگرمی معطل کر دیں۔ اس فیصلے سے پاکستان پر بھی نمایاں اثرات پڑے ہیں، جہاں متعدد منصوبے اس امداد کے تحت جاری تھے۔
پاکستان میں توانائی کے شعبے میں پانچ اہم منصوبے روک دیے گئے ہیں، جب کہ اقتصادی ترقی سے متعلق چار پروگرام بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔ زراعت کے میدان میں جاری پانچ پروگرام متاثر ہوئے ہیں، جب کہ جمہوریت، انسانی حقوق اور گورننس کے شعبوں میں بھی فنڈز عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔ اسی طرح تعلیم اور صحت کے شعبے میں چار، چار منصوبے معطل ہو گئے ہیں۔
ایمبیسڈر فنڈ برائے ثقافتی تحفظ کے تحت جاری منصوبہ بھی ان فیصلوں سے متاثر ہوا ہے۔ امریکی اقدام نے نہ صرف ترقیاتی منصوبوں بلکہ سماجی اصلاحات کے پروگراموں کو بھی براہ راست متاثر کیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ازسرنو جائزے کے بعد ان پروگراموں کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یہ تمام منصوبے، جن پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے جا رہے تھے، دوبارہ شروع ہو سکیں گے یا نہیں۔ اس صورتحال نے ان ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے جو امریکی امداد پر انحصار کرتے ہیں، خاص طور پر پاکستان میں، جہاں یہ منصوبے ترقی اور عوامی بہبود کے لیے اہم سمجھے جا رہے تھے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں