امریکہ اور ایران کے درمیان جنیوا میں جوہری مذاکرات کا دوسرا دور عمان کی ثالثی میں شروع

امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری تنازع پر مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شروع ہو گئے ہیں۔ یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں عسکری سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے اسٹیو وِٹکوف سمیت دیگر حکام اس عمل میں شریک ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق امریکہ کی جانب سے جیرڈ کشنر بھی مذاکراتی عمل کا حصہ ہوں گے۔

مذاکرات سے ایک روز قبل ایران کے وزیر خارجہ نے جنیوا میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے ملاقات کی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا مشکل ہوگا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں ’بالواسطہ‘ طور پر شامل ہوں گے اور ان کے خیال میں تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر معاہدہ نہ ہوا تو اس کے نتائج ہوں گے۔‘

ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق اقدامات پر بات چیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے بدلے میں عائد پابندیاں نرم کی جائیں۔ تاہم تہران نے صفر افزودگی کی شرط کو مسترد کر دیا ہے۔

ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ واشنگٹن غیر حقیقی مطالبات سے گریز کرے اور پابندیوں کے خاتمے میں سنجیدگی دکھائے۔

دوسری طرف مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا دی ہے۔ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن، جو ایک اسٹرائیک گروپ کی قیادت کر رہا ہے، عمان کے قریب ایران سے تقریباً 700 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کا سب سے بڑا جنگی بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیا گیا ہے۔

ایران نے بھی پیر کو آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں شروع کیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ ان سرگرمیوں کے باعث منگل کو ایشیائی منڈیوں میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔

امریکہ اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں اسرائیل کی بمباری مہم اور بعد ازاں امریکی بی ٹو بمبار طیاروں کے حملوں کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی کی سرگرمیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں