نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ خلیج فارس کے ممالک کئی برسوں سے اس خدشے کا اظہار کرتے آ رہے تھے کہ خطے کی کوئی بڑی جنگ ان کے جدید اور پُررونق شہروں کو میزائلوں اور ڈرون حملوں سے برباد کر دے گی، سیاح پھنس جائیں گے اور غیر ملکی سرمایہ کار خطہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اسی خوف کے باعث ان ممالک نے امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے، اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے قائم کیے اور امریکی اسلحے پر اربوں ڈالر خرچ کیے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے تحفظ حاصل کیا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں نے صورتحال کو تیزی سے ایک خوفناک منظرنامے میں بدل دیا ہے۔ ایرانی جوابی کارروائی میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان پر ایک ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون داغے گئے ہیں۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق، ان حملوں میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ توانائی تنصیبات، ہوائی اڈوں، ریزورٹس اور امریکی فوجی اڈے بھی نشانہ بنائے گئے ہیں۔ دبئی جیسے شہر، جو طویل عرصے تک علاقائی تنازعات سے محفوظ سمجھے جاتے تھے، وہاں دھماکوں سے عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور بعض ہوٹلوں میں آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
رپورٹ کے مطابق، اب خلیجی حکومتوں کو یہ سوال درپیش ہے کہ آیا ان کے پاس موجود میزائل دفاعی نظام اور خوراک کے اسٹریٹجک ذخائر طویل جنگ کا بوجھ برداشت کر سکیں گے یا نہیں۔ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایران کے خلاف جنگ میں عملی طور پر شامل ہوں گے اور مزید کشیدگی مول لیں گے۔
ماہرین کے مطابق، خلیجی ریاستیں امریکا اور ایران کے درمیان ایک مشکل توازن میں پھنسی ہوئی ہیں۔ عمان اور قطر نے ماضی میں ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھے، جبکہ حالیہ برسوں میں امارات اور سعودی عرب نے بھی ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی تاکہ خطرات کم کیے جا سکیں۔ دوسری جانب ان ممالک نے اسرائیل کے ساتھ بھی روابط مضبوط کیے، لیکن خطے پر کسی ایک طاقت کے غلبے کے خواہاں نہیں۔
قطر کے سابق وزیر اعظم حمد بن جاثم التھانی نے سوشل میڈیا پر خبردار کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں نئی صورتحال جنم لے سکتی ہے اور اسرائیل کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے گریز کریں اور اپنی اجتماعی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنائیں تاکہ بیرونی طاقتوں پر انحصار کم ہو۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ان کا ملک کشیدگی کم کرنے کے لیے اتحادیوں سے رابطے میں ہے اور توجہ اپنے وطن کے دفاع پر مرکوز ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت ریم الہاشمی نے بھی واضح کیا کہ فوجی حل مزید بحرانوں کو جنم دے گا اور مسئلے کا واحد قابلِ عمل راستہ سفارت کاری ہے۔
ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے درجن سے زائد عرب ممالک میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر روانہ ہونے کی ہدایت کی ہے، حالانکہ کئی ممالک کی فضائی حدود پہلے ہی بند ہو چکی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو خلیجی معیشت، جو علاقائی استحکام پر انحصار کرتی ہے، شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے اور پورا خطہ ایک نئے اور غیر یقینی دور میں داخل ہو سکتا ہے۔