امریکہ ایران جنگ، تیل کی قیمتیں دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

امریکہ، اسرائیل او ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔برینٹ کروڈ، جو عالمی سطح پر تیل کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے، پیر کی صبح 3 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 116 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔ یہ سطح تقریبا دو ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔

اس صورتحال کا اثر صرف تیل تک محدود نہیں رہا بلکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی شدید مندی دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جہاں سے دنیا کی تقریبا 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس اہم گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کرنے سے عالمی توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔جنگ کے آغاز سے اب تک تیل کی قیمتوں میں تقریبا 60 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جس کا اثر دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی کارروائی کی تو سخت ردعمل دیا جائے گا، جبکہ یمن کے حوثی باغیوں نے بھی پہلی بار اس جنگ میں اسرائیل پر میزائل حملے کیے ہیں۔ادھر اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے 6 اپریل تک آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت ختم نہ کی تو اس کے توانائی کے ڈھانچے کو “تباہ” کر دیا جائے گا۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہے۔دوسری جانب ایران نے امریکی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط پیش کی ہیں، جن میں نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو تسلیم کروانا شامل ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں