لڑکپن میں نصابی کتابوں میں ایک کہانی پڑھا کرتے تھے، جس میں ایک بھیڑیا ندی کے کنارےایک بھیڑ کے بچےسے مکالمہ کرتا ہے، اُس پر پانی گدلا کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ بھیڑ کا بچہ اُسے یاد دلاتا ہے کہ پانی تو خود بھیڑئیے کی طرف سے آرہا ہے، گدلا کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ بھیڑیا لاجواب ہونے کی بجائے اگلا سوال کرتا ہے کہ تم نے گزشتہ برس مجھے گالیاں دی تھیں۔ بھیڑ کے بچے نے اُسے بتایا کہ میری تو عمر ہی چھ ماہ ہے، میں سال پہلے گالیاں کیسے دے سکتا ہوں؟ تب بھیڑیئے نے ڈھٹائی کی آخری کوشش کی اور کہا کہ تم نے نہیں تو تمہارے باپ نے مجھے گالیاں دی ہوں گی، اور یوں اُس نے بھیڑ کے بچے کو اپنا شکار بنا لیا۔ تب اس کہانی کا سبق یا نتیجہ فارسی کا یہ محاورہ ہوا کرتا تھا، “خوئے بد را بہانہ بسیار” ۔ یعنی بدنیت کے پاس بہت سے بہانے ہوتے ہیں۔ کچھ اسی قسم کا معاملہ امریکہ اور ایران جنگ کا ہے۔ یہاں فرق یہ ہے کہ” بدنیت بھیڑیئے” کے سامنے بھیڑ کا بچہ نہیں، یہ تر نوالہ نہیں بنے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکہ اور اسرائیل گٹھ جوڑ سے طاقت کا توازن یکساں نہیں ہے۔
ایران امریکہ کی آنکھ میں ہمیشہ سے کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ 1979 ء میں ایران میں آنے والے انقلاب کے بعد سے امریکہ ایران پر بری نگاہ رکھے ہوئے ہے، عالمی سطح پر ایران مسلسل پابندیوں کا شکار ہے، اسے دنیا سے الگ کرکے تنہا کرنے کی کوشش جاری ہے۔ مگر ان حالات میں ایران نے کبھی گھٹنے ٹیکنے تو دور کی بات ہے، کبھی رویے میں بھی لچک نہیں دکھائی۔ یہی مجاہدانہ جرات امریکہ کو خطرے کی گھنٹی محسوس ہوتی ہے۔ ایران نے نہ صرف عالمی پابندیوں کی کبھی پرواہ نہیں کی، بلکہ “مرگ بر امریکہ” کا نعرہ ایران کےقومی نعرے کا روپ دھار چکا ہے۔امریکہ کی ایران دشمنی کی ایک نمایاں وجہ یہ بھی ہے کہ اسرائیل کی سالمیت کو اگر کچھ خطرہ ہے تو وہ صرف ایران سے ہے۔ کیونکہ خطے کے دیگر اسلامی ممالک یا تو امریکہ کے غلام بن چکے ہیں، جن سے کچھ کھٹکا تھا، انہیں امریکہ سالہا سال کی کوششوں سے تباہ کر چکا ہے۔
موجودہ جنگ کے تناظر میں جب ایران نے ہمسایہ اسلامی ممالک کے کچھ ٹھکانوں پر حملے کئے تو اسلامی دنیا میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی۔ فطری طور پر اسلامی ممالک کی حکومتیں اور عوام دو حصوں میں تقسیم ہو گئیں۔ اگرچہ ایران کے لئے یہ مشکل فیصلہ تھا، تاہم یہ نہایت جرات مندانہ اور خطرناک اقدام تھا۔ امریکہ اور اسرائیل سے دشمنی تو تھی ہی، ایران نے ہمسایوں کو بھی دشمن بنا لیا۔ اب جا کر ایرانی صدر نے ہمسایوں پر میزائل برسانے بند کرنے کے اعلان کو اس بات سے مشروط کیا ہے کہ یہاں سے ایران پر امریکی حملہ نہیں ہونا چاہیے۔ جنگوں سے بربادیوں کی کہانیاں جنم لیتی ہیں، مگر یا تو یہ غلط فہمیوں کی بنا پر شروع ہوتی ہیں، یا طاقت کا نشہ کچھ اس انداز میں دماغ کو چڑھ جاتا ہے کہ معاملہ قابو میں نہیں رہتا ، اور سامنے سر اٹھانے والا قابلِ گردن زدنی قرار پاتا ہے۔ گریٹر اسرائیل کے نام سے یہ توسیع پسندی کی جنگ ہے، جو امریکی شہ پر لڑی جارہی ہے۔
امریکہ کے رویے، عمل اور بیانات سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ کسی قسم کی اخلاقیات کا روادار نہیں، نہ اسے دلائل کی ضرورت ہے اور نہ ہی وہ کسی اصول پسندی کو خاطر میں لاتا ہے۔ کسی ملک کے روحانی سربراہ کو شہید کر دینا اُن کے نزدیک جرم نہیں۔ سکول میں سیکڑوں بچوں کے قتل کا بھی انہیں بالکل احساس نہیں۔ یورپ یا امریکہ میں ایک کتے کا بچہ زخمی ہو جائے تو پوری حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے، سخت قانونی کارروائی عمل میں آتی ہے، مگر ایران میں شہید ہونے والے بچوں کی موت کو جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مسلمان دشمنوں کے بارے میں مکمل بے حس اور ظالم ثابت ہوئے ہیں۔
اس جنگ میں اسلامی ملکوں کی مکمل خاموشی خوفناک مستقبل کا منظر پیش کرتی ہے۔ امریکہ چونکہ ڈھٹائی اور بے حسی سے کارروائیاں کر رہا ہے، اس لئے قابلِ غور یہ بات ہے کہ وہ گردن اٹھانے (بلکہ آنکھ اٹھانے والے) کسی بھی اسلامی ملک کو نظر انداز نہیں کرے گا۔ ایسے میں ایک دوسرے کا تماشہ دیکھنے کی بجائے مسلمان ممالک کو آپس میں مل بیٹھنا چاہیے تھا، اس مسلط کردہ جنگ کو رُکوانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی، آپس کا کوئی لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے تھا۔ تمام اسلامی ممالک چَین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ ان کی خام خیالی یہی ہے کہ “یہ کچھ صرف ایران کے ساتھ ہے، امریکہ تو ہمارا دوست ہے”۔ امریکہ صرف مفاد کا دوست ہے، وہ اپنی غلامی کرنے والے حکمرانوں کو بھی کبھی معاف نہیں کرتا ۔
اُدھرحکومتِ پاکستان نے جنگ کو جواز بناتے ہوئے 6 مارچ کو پٹرولیم کی قیمتوں میں 55 روپے کا ظالمانہ اضافہ کردیا ۔ اس سے قبل یہ اضافہ ہر ماہ کی یکم یا 15 تاریخ کو ہوا کرتا تھا، عوام کو لوٹنے میں اس قدر بے صبری تھی کہ 15 تاریخ کا انتظار بھی نہ ہوا۔ رمضان المبارک سے قبل بھی پانچ روپے کا اضافہ کرکے قوم کو استقبالِ رمضان کا تحفہ دیا گیا تھا۔ اب موجودہ اضافے کو عید کا تحفہ قرار نہیں دیا جا سکتا ، کیونکہ ظالم اور بے حس حکمرانوں کی نئی عوام دشمن پالیسی سامنے آ گئی ہے کہ اب ہر سات دن بعد پٹرولیم کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ گویا جہاں قیمتیں بڑھنے میں پندرہ دن کا وقفہ آ جاتا تھا، وہاں اب یہ کام ہر ہفتے ہوسکے گا۔ حالیہ اضافہ کو کوئی اخلاقی جواز عطا نہیں کیا جاسکتا۔ جنگ کے اثرات یقیناً خطے پر پڑیں گے، مگر یہ تو اُس پٹرول کی قیمت بڑھا دی گئی ہے جو کہ سٹاک میں موجود ہے۔ اگر حکومت رمضان المبارک میں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ایکشن لیتی ہے، تو اب وہ خود ذخیرہ اندوزی کرکے قوم پر ظلم کر رہی ہے۔ اس قدر غیر معمولی اضافہ امریکی رویے کی طرح ہی ہے۔ جیسے امریکہ ایران یا کسی بھی ناپسندیدہ ملک کا ہر قسم کا نقصان کرنے کو جائز جانتا ہے، ایسے ہی پاکستانی حکمران عوام کی کمر توڑنے کے لئے کسی بھی اقدام کو جائز ہی مانتے ہیں۔ قوم امریکہ ایران جنگ کو بھول کر پٹرول بم سے نمٹنے میں مصروف ہو گئی ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے ثابت ہوا کہ اُن کے میڈیا میں شائع ہونے والے عوامی ہمدردی کےاشتہارات بھی دکھاوے اور نمودو نمائش کے علاوہ کچھ نہیں۔ ایک طرف عوام کو امداد کے نام پر اشتہاری بھیک دی جا رہی ہے دوسری طرف پٹرول بم گرا کر عوام میں مہنگائی اور تباہی کا بندوبست کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تمام اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ اس فیصلے سے عوام میں اُن کے خلاف سخت نفرت پھیل چکی ہے۔دوسری طرف جب پاکستان میں بہت بڑی مقدار میں تیل پہنچ چکا ہے، عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتیں کم ہوئی ہیں، یہاں قیمت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ عجیب بات ہے جس عوام کو آسانی بانٹنا حکومت کا کام ہے، وہ خود اُن سے منافع وصول کر رہی ہے۔