امریکی وزیر توانائی کرِس رائٹ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ اس وقت آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو حفاظتی اسکواڈ فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں تھا۔
انہوں نے ایک سی این بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس وقت امریکی فوج کی توجہ بنیادی طور پر ایران کی حملہ آور صلاحیتوں اور اِن ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق صنعت کو نشانہ بنانے پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق، اسی وجہ سے فی الحال امریکی بحریہ تیل بردار جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری فوری طور پر نہیں سنبھال سکتی۔
وزیر توانائی نے کہا کہ یہ انتظام جلد کیا جا سکتا ہے، تاہم اس وقت ایسا ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق، امریکی فوجی وسائل اس وقت مکمل طور پر ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے آپریشنز میں مصروف ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی بحریہ ممکنہ طور پر اس مہینے کے اختتام تک تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے اسکواڈ فراہم کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔ اس معاملے پر دفاعی حکام کے ساتھ مسلسل مشاورت جاری ہے۔