پی ایس ایل 2026: فخر زمان پر گیند سے چھیڑ چھاڑ کا الزام، حسن علی پر جرمانہ عائد

پاکستان سپر لیگ میں اتوار کے روز لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان کھیلے گئے میچ کے دوران گیند کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ پر لاہور قلندرز کے کھلاڑی فخر زمان پر لیول تھری جرم کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق، فخر زمان پر پی ایس ایل کے پلیئنگ کنڈیشنز کے آرٹیکل3۔41 کی خلاف ورزی کا الزام ہے، جس کے تحت گیند کی حالت تبدیل کرنے والا کوئی بھی عمل جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے میچ ریفری روشن مہاناما کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران الزامات سے انکار کیا ہے، جبکہ مزید سماعت آئندہ 48 گھنٹوں میں ہو گی جس کے بعد فیصلہ سنایا جائے گا۔

دوسری جانب کراچی کنگز کے فاسٹ بولر حسن علی پر ضابطہ اخلاق کی لیول ون خلاف ورزی پر میچ فیس کا دس فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے خلاف الزامات تسلیم کرتے ہوئے جرمانہ قبول کر لیا ہے۔ پی سی بی کے مطابق، حسن علی نے ایسی زبان اور حرکات کا استعمال کیا جس کا مقصد بیٹر کو آؤٹ کرنے کے بعد اشتعال دلانا تھا۔

اتوار کی شب لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ہونے والے اس میچ میں کراچی کنگز کو جیت کے لیے آخری اوور میں 14 رنز درکار تھے۔ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اوورز کے درمیان وقفے کے دوران فخر زمان نے حارث رؤف سے گیند لے کر چند لمحوں کے لیے اپنے پاس رکھی اور پھر واپس کر دی۔ تاہم امپائر نے فوری طور پر گیند تبدیل کر دی اور لاہور قلندرز پر پانچ رنز کی پنلٹی عائد کر دی۔

اس فیصلے کے بعد کراچی کنگز کا ہدف 14 سے کم ہو کر نو رنز رہ گیا، جو اس نے تین گیندوں میں حاصل کر لیا۔

میچ کے بعد جب کمنٹیٹر نے کپتان شاہین شاہ آفریدی سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس واقعے کا علم نہیں اور وہ ویڈیو دیکھنے کے بعد ہی کچھ کہہ سکیں گے۔

پی ایس ایل کے قواعد کے مطابق، امپائرز کو اختیار حاصل ہے کہ وہ گیند کا معائنہ کریں اور اگر انہیں اس کی حالت میں غیر منصفانہ تبدیلی کا شبہ ہو تو اسے تبدیل کر دیں اور فیلڈنگ ٹیم پر پانچ رنز کی سزا عائد کریں۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ صارفین نے اسے کرکٹ کے اصولوں کے خلاف قرار دیا، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ فخر زمان کے پاس گیند چند لمحوں کے لیے تھی اور اتنے کم وقت میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں