علی امین گنڈاپور کا اچانک استعفیٰ خیبرپختونخوا کی سیاست میں محض ایک عہدے کی تبدیلی نہیں بلکہ تحریکِ انصاف کے اندرونی زوال اور اقتداری ساخت کی کمزوری کا واضح اعلان ہے، یہ وہ لمحہ ہے جہاں سیاسی وفاداری، انتظامی کارکردگی پر غالب آ گئی، اور عوامی مینڈیٹ ایک بار پھر پسِ پشت چلا گیا،گنڈاپور کا بیان کہ “وزیراعلیٰ کا عہدہ بانی تحریک انصاف کی امانت تھا، جو میں واپس کر رہا ہوں”، اپنے اندر ایک گہری معنویت رکھتا ہے.
سوال یہ ہے کہ اگر ایک وزیراعلیٰ اپنی حیثیت کو محض امانت دار سمجھتا ہے تو صوبے کے دو کروڑ عوام کا اعتماد اور ان کے ووٹ کی طاقت کہاں کھڑی ہے، یہ جملہ دراصل ایک اعترافِ کمزوری ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت مکمل طور پر ایک شخصی حکم کے تابع تھی، نہ کہ کسی عوامی مینڈیٹ یا ادارہ جاتی اختیار کے،اقتدار کے ایوانوں میں یہ استعفیٰ عمران خان کی براہِ راست ہدایت پر سامنے آیا.
پارٹی ذرائع کے مطابق عمران خان نے صوبائی حکومت کی کارکردگی، امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور اندرونی اختلافات کے باعث علی امین گنڈاپور کی تبدیلی کا فیصلہ کیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اندر کئی ماہ سے طاقت کی ایک خاموش جنگ جاری تھی، جس میں گنڈاپور خود بھی ایک متنازعہ کردار کے طور پر ابھرے،ان کے دورِ حکومت میں خیبرپختونخوا بدترین سیکیورٹی بحران سے گزرا، دہشتگردی کے نئے واقعات، امن و امان کی بگاڑ، اور ترقیاتی منصوبوں میں مالی بے ضابطگیاں ان کی ناکامی کا حصہ بنیں.
کوہستان فنڈز اسکینڈل اور محکمہ جات میں مبینہ کمیشن کے الزامات نے ان کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا، اگرچہ عدالتوں نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں دیا، مگر سیاسی سطح پر ان پر بداعتمادی گہری ہو چکی تھی،سیاسی مبصرین کے مطابق گنڈاپور کا جارحانہ رویہ، عدمِ برداشت اور مخالفین کے خلاف اشتعال انگیز بیانات ان کے خلاف نفرت کا باعث بنے، وہ ایک عوامی لیڈر کے بجائے ایک میدانی فائٹر کے طور پر دیکھے گئے جنہوں نے انتظامی مہارت کے بجائے محاذ آرائی کو اپنی پہچان بنایا.
یہی وہ روش تھی جو بالآخر انہیں اقتدار سے الگ کر گئی،یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عمران خان اس وقت جیل میں ہیں، اور پارٹی کے مختلف دھڑے اپنی جگہ اقتداری خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے میں گنڈاپور کا جانا دراصل اس اندرونی تصادم کا شاخسانہ ہے جس نے تحریک انصاف کو ادارہ جاتی طور پر کمزور کر دیا، اقتدار کا مرکز اسلام آباد نہیں بلکہ اب پارٹی کے اندر وہ چند چہرے ہیں جو عمران خان کے نام پر اپنے فیصلوں کو حتمی قرار دیتے ہیں.
عوام کے لیے یہ لمحہ سوچنے کا ہے کہ اگر ایک صوبے کا وزیراعلیٰ اپنی ذمہ داری کو محض امانت سمجھتا ہے تو ان کے ووٹ، ان کی امیدوں اور ان کے مسائل کی اصل نمائندگی کہاں ہے، کیا سیاست اب امانت کی نہیں بلکہ اطاعت کی شکل اختیار کر چکی ہے؟علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک علامتی حقیقت ہے کہ پاکستان میں قیادت کا تصور اب شخصیات کے گرد گھوم رہا ہے، اداروں کے گرد نہیں، تحریک انصاف کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے، یا تو وہ حقیقی جمہوری اصولوں کی طرف لوٹے یا پھر وفاداری کے نام پر گورننس کی قبر کھودتی رہے،علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتدار اب عوام کے ہاتھ میں نہیں بلکہ شخصی اختیار اور پارٹی وفاداری کے تابع ہو چکا ہے، ان کا جانا ایک فرد کی رخصتی نہیں بلکہ اس سوچ کی شکست ہے جس نے سیاست کو خدمت کے بجائے حکم برداری کا کھیل بنا دیا.