بالی ووڈ کے معروف اداکار اکشے کمار نے کہا ہے کہ وہ فلموں میں حقیقی ایکشن کے حامی ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور وی ایف ایکس کے زیادہ استعمال کو پسند نہیں کرتے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آج کل ایکشن فلموں کا انداز بدل گیا ہے اور زیادہ تر مناظر کمپیوٹر کے ذریعے بنائے جاتے ہیں، جس سے فلم کی حقیقت اور سنسنی کم ہو جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایکشن حقیقی ہوتا تھا، اب زیادہ تر وی ایف ایکس کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو مصنوعی محسوس ہوتا ہے۔ میں ایسی فلمیں بنانا چاہتا ہوں جو حقیقت کے قریب ہوں۔
اکشے کمار نے کہا کہ وہ اپنے ایکشن مناظر خود انجام دینا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وہ کسی منظر میں چھلانگ لگا رہے ہوں تو وہ اسے حقیقت میں کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ کمپیوٹر یا دیگر ذرائع سے اسے تیار کیا جائے۔
اکشے کمار کا شمار بالی ووڈ کے نمایاں ایکشن اداکاروں میں ہوتا ہے اور وہ کاراتے، موائے تھائی اور دیگر مارشل آرٹس میں مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز “کھلاڑی” فلموں سے کیا اور بعد میں کئی کامیاب فلموں میں کام کیا، جن میں “موہرا”، “سہاگ” اور “جانور” شامل ہیں۔
حالیہ برسوں میں وہ “ہالیڈے”، “گبّر از بیک” اور “سوریوانشی” جیسی ایکشن فلموں میں نظر آئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کامیڈی اور سماجی موضوعات پر بھی کام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی اور مصنوعی ایکشن میں فرق آسانی سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق جیسے ہاتھ سے بنائی گئی تصویر اور ڈیجیٹل تصویر میں فرق ہوتا ہے، ویسے ہی حقیقی ایکشن میں محنت اور جذبہ واضح نظر آتا ہے۔
اکشے کمار نے یہ بھی بتایا کہ وہ کامیاب فرنچائز فلموں کا حصہ بن کر خوش ہیں، کیونکہ ان میں انہیں اپنے انداز کے مطابق کردار ملتے ہیں۔