پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے پریس کانفرنس کے دوران دو مرتبہ یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا پاکستانی افواج نے سرحد پار افغانستان میں فضائی حملے کیے ہیں۔
پہلی بار جب صحافی نے اس بارے پوچھا تو لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس کی براہِ راست تصدیق یا تردید کرنے کے بجائے کہا کہ "یہ جو آپ نے سٹرائیک کی بات کی اس پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر اور افغان ترجمان کے بیان کو نوٹ کیا گیا ہے”۔
انہوں نے اس موقع پر افغان صورتحال اور دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ افغانستان ہمارا برادر پڑوسی ملک ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں سے زیادہ لاکھوں افغان پناہ گزین کی مہمان نوازی کی ہے۔
فوج کے ترجمان نے افغان اتھارٹیز سے سختی سے گزارش کی کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں اور بتایا کہ معمول کی تجارتی سرگرمیاں اور طبی خدمات دونوں جانب جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ افغان علاقے میں ایسے افراد اور ٹھکانے موجود ہیں جو ٹی ٹی پی جیسے گروپوں سے منسلک ہیں، اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جا چکا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ مگر پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت اور علاقائی سالمیت کے لیے ہم جو بھی ضروری اقدام ہے وہ پہلے بھی لیتے تھے اور اب بھی لیں گے۔
جب دوبارہ سوال دہرایا گیا کہ کیا گذشتہ شب کابل میں چار مقامات پر پاکستانی فضائی کارروائیاں کی گئیں اور اس میں ٹی ٹی پی کے رکن نور ولی محسود کو ہدف بنایا گیا؟ تو ترجمان نے اپنی پچھلی بات کو دہراتے ہوئے کہاکہ”میں آپ کو یہ واضح کر چکا ہوں کہ افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے شواہد موجود ہیں۔ پاکستان کے عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے جو ضروری اقدامات کیے جانے چاہییں، وہ کیے جائیں گے اور کیے جاتے رہیں گے”۔