بھارت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئر انڈیا پر ایک لاکھ ڈالرسے زیادہ کا جرمانہ عائد کیا ہے کیونکہ ایئر لائن نے ایک ایئر بس جہاز آٹھ مرتبہ حفاظتی سرٹیفیکیٹ حاصل کیے بغیر چلایا، جس سے ملک کی دوسری بڑی ایئر لائن پر عوام کے اعتماد کو مزید نقصان پہنچا ہے۔
ایئر انڈیا کے ایک جہاز نے 24 سے 25 نومبر کے دوران نئی دہلی، بنگلور، ممبئی اور حیدرآباد کے درمیان سفر کیا، حالانکہ جہاز کے لیے لازمی حفاظتی سرٹیفیکیٹ جاری نہیں تھا۔ یہ سرٹیفکیٹ ہر سال ریگولیٹر کے ذریعے جہاز کے حفاظتی اور دیگر معیار کے جائزے کے بعد جاری کیا جاتا ہے۔
ایئر انڈیا نے اپنی داخلی تحقیقات میں اس واقعے کو انتظامی ناکامی قرار دیا ہے۔5فروری کو ایئر انڈیا کے سی ای او کیمپبل ولسن کو جاری جرمانے کے حکم میں کہا گیا کہ اس واقعے نے “عوامی اعتماد کو مزید نقصان پہنچایا اور ادارے کی حفاظتی پالیسی پر منفی اثر ڈالا”۔
ایئر لائن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 10 ملین بھارتی روپے، یعنی تقریباً 110,350 ڈالر، 30 دن کے اندر جمع کرائے۔
یاد رہے کہ ایئر انڈیا کا بدترین حادثہ پچھلے سال جون میں پیش آیا تھا جب بوئنگ ڈریم لائنر کے ٹیک آف کے چند لمحے بعد حادثے کا شکار ہوا اور واقعے میں 260 افراد ہلاک ہوئے ۔
ایئر بس کے واقعے کی تحقیقات میں پائلٹس کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا کیونکہ جن پائلٹس نے یہ آٹھ پروازیں چلائیں وہ ٹیک آف سے قبل آپریٹنگ طریقہ کار پر عمل نہیں کر رہے تھے۔
ایئر انڈیا، جو ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئر لائنز کی ملکیت ہے، اس سے قبل بھی ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے حفاظتی آلات کے غیر چیک ہونے اور دیگر معائنہ کوتاہیوں پر انتباہات وصول کر چکی ہے۔