بھارت میں مصنوعی ذہانت کا عالمی سربراہی اجلاس، اے آئی کے ضوابط جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا

بھارت اس ہفتے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق ایک اہم عالمی سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، جس میں مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان شریک ہو رہے ہیں۔ اجلاس میں روزگار پر اثرات، بچوں کی آن لائن حفاظت اور اے آئی کے ضوابط جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے۔

اس عالمی سمٹ کا آغاز آج سے ہو چکا ہے۔ حکومت کے مطابق اس اجلاس کا مقصد اے آئی کے عالمی نظم و نسق اور باہمی تعاون کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس سمٹ میں تقریبا ڈھائی لاکھ افراد شرکت کریں گے، جن میں 20 ملکی رہنما اور 45 وزارتی سطح کے وفود شامل ہیں۔ اس سے قبل یہ اجلاس فرانس، برطانیہ اور جنوبی کوریا میں منعقد ہو چکا ہے، تاہم اس بار اسے اب تک کا سب سے بڑا ایڈیشن قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت اس موقع کو ترقی یافتہ ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ حکام کے مطابق ڈیجیٹل شناخت اور ادائیگی کے نظام جیسے بڑے منصوبوں کا تجربہ بھارت کو کم لاگت میں اے آئی کے مؤثر استعمال میں مدد دے سکتا ہے۔

بھارت کے وزیر برائے الیکٹرانکس و آئی ٹی اشونی ویشنو کا کہنا ہے کہ اے آئی کو انسانیت کی بہتری، جامع ترقی اور پائیدار مستقبل کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے عالمی رہنماؤں میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا شامل ہیں۔

ٹیکنالوجی شعبے کی نمایاں شخصیات میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی، کوالکوم کے سربراہ کرسٹیانو ایمون، اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین، مائیکروسافٹ کے صدر بریڈ اسمتھ اور اے آئی ماہر یان لیکون بھی متوقع ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس سمٹ سے کسی لازمی عالمی معاہدے کی توقع کم ہے، البتہ ممکن ہے کہ ایک غیر پابند اعلامیہ جاری کیا جائے جس میں اے آئی کی ترقی اور اس کے ضابطوں سے متعلق اہداف طے کیے جائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اس بات پر زور دیا جائے گا کہ حکومتیں اے آئی کے لیے مناسب قواعد و ضوابط تو بنائیں، لیکن ایسی سخت پابندیاں نہ لگائیں جو اس تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کی ترقی میں رکاوٹ بنیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں